
بجلی کی کرسی یا فائرنگ اسکواڈ: امریکہ میں سزائے موت کے قیدیوں کے پاس اب انتخاب کا حق
جنوبی کیرولائنا:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کی ریاست جنوبی کیرولائنا نے سزائے موت پر عمل در آمد کے لیے دیے جانے والے لیتھل یا ہلاکت خیز انجکشن کی عدم دستیابی کے باعث عشروں سے سزائے موت کے منتظر قیدیوں کے لیے ایک قانون کی منظوری دی ہے، جس میں انہیں کہا گیا ہے کہ وہ سزا پر عمل درآمد کے لیے بجلی کی کرسی یا فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑے ہونے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
جنوبی کیرولائنا کے گورنر ہنری مک ماسٹر نے اپنی ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے دستخطوں سے ایک قانون کی منظوری دی ہے، جس کی رو سے ریاست کے لیے اب سزائے موت پر عمل درآمد کرنا ممکن ہو سکے گا۔ اس سے ان کے بقول متاثرین کے خاندانوں اور پیاروں کو انصاف فراہم کیا جا سکے گا۔ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ریاستِ ساؤتھ کیرولائنا کے گورنر مک ماسٹر زہر کے انجکشن کی عدم دستیابی کے باعث دس سال سے رکے ہوئے سزائے موت کے عمل کو دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔
اس تعطل سے قبل سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو بجلی کی کرسی یا زہر کے انجکشن میں سے کسی ایک طریقے کا انتخاب کرنے کے لیے کہا جاتا تھا۔ انتخاب نہ کیے جانے کی صورت میں اسے زہر کا انجکشن دے دیا جاتا تھا۔قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک مقامی امریکی تنظیم انکارسریٹڈ آؤٹ ریچ نیٹ ورک نے اس قانون کو نفرت انگیز، وحشت ناک اور گھناؤنا قرار دیا ہے جب کہ جنوبی کیرولائنا میں قائم امریکن سول لبرٹیز یونین نے اسے نسلی امتیاز، نفرت اور غلطیوں سے اٹے نظام میں سزائے موت دوبارہ شروع کرنے کا ایک نیا طریقہ کہا ہے۔
ریاست کے لیے اس تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فرینک کناک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی کیرولائنا کے فوجداری مقدمات کے انصاف کے نظام میں غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد اسے پلٹا نہیں جا سکتا، اس لیے ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس ریاست میں سیاہ فاموں کی آبادی صرف 27 فیصد ہے جب کہ موت کی سزا پانے والوں میں ان کا تناسب نصف سے زیادہ ہے۔



