
سرکار نے 8 دن قبل جوتجویز کسانوں کو پیش کی تھی وہ ابھی تک برقرار ہے: مودی
نئی دہلی : ( اردودنیا.اِن) وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز ہونے والی کل جماعتی اجلاس میں کہا کہ حکومت کسانوں سے بات کرنے کے لئے ہمیشہ تیار ہے۔ 22 جنوری کو کاشتکاروں کو پیش کی جانے والی پیش کش ابھی تک برقرار ہے۔ کوئی بھی حل بات چیت سے نکالنا چاہئے۔
اجلاس میں حکومت نے بجٹ اجلاس کیلئے تمام فریقوں کے سامنے اپنا ایجنڈا پیش کیا۔ یہ اجلاس مجازی طریقہ ٔ کار یعنی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ہوئی ۔خیال رہے کہ 22 جنوری کو حکومت اور کسان رہنماؤں کے مابین 12ویںکی میٹنگ ہوئی تھی ۔ اس میں حکومت نے کہا کہ نئے قوانین میں کوئی نقص نہیں ہے۔
اگر آپ (کسان رہنما) کسی فیصلے پر پہنچ جاتے ہیں ،تو مجھے بتائیں، ہم پھر اس پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس سے قبل 20 جنوری کو منعقدہ میٹنگ میں مرکز نے ڈیڑھ سال کے لئے نئے زرعی قوانین کو معلق رکھنے کی تجویز پیش کی تھی، تاکہ ایم ایس پی پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کی طرف سے کسانوں سے جو باتیں کہی گئیں انہیں دہرانا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم (نئے زرعی قوانین پر) نقطۂ اتفاق پر نہیں پہنچے ہیں ، ہم آپ کو تجویزپیش کرتے ہیں کہ آپ جب چاہیں مجھ سے بات کریں ، میں بات کے لئے تیار ہوں۔ پی ایم مودی نے کہا کہ ان کی حکومت کسانوں کے مسائل حل کرنے کے لئے مستقل ’کوشش‘ کر رہی ہے۔اجلاس کے دوران بیشتر حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دوبارہ قوانین پر تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کے غلام نبی آزاد ، ترنمول کانگریس کے سودیپ بندو اپادھیائے ، عام آدمی پارٹی کے بھگونت مان ، شیوسینا کے ونایک راوت اور شیرومنی مالی اکالی دل کے بلوندر سنگھ نے حکومت سے یہ یقین دہانی طلب کی ہے کہ زرعی قوانین سے متعلق تمام متنازعہ امور تبادلہ خیال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت انہیں دشمنوں کی طرح نہ دیکھے۔غلام نبی آزاد نے کہا کہ کانگریس نے پہلے ہی حکومت کو اس تحریک کے بارے میں متنبہ کردیا تھا، اب حکومت کو ان نتائج سے نبردآزما ہوناہوگا۔ اسی دوران بھگونت مان نے وزیر اعظم کو بتایا کہ کچھ غلط لوگوں نے کسانوں کی تحریک میں مداخلت کرکے انتشاراور تشددکو ہوا دی ہے ۔ کسان واپس اپنے مقامات پر چلے گئے تھے، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جارہا ہے۔ مظاہرین کسانوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔




