
بغداد:(ایجنسیاں) ہفتہ کے روز دارالحکومت بغداد کے ابن الخطیب ہسپتال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 82 ہو گئی ہے۔ یہ بات انسانی حقوق کے کمیشن نے آج اتوار کے روز بتائی۔ یہ آگ ہسپتال میں کرونا کے مریضوں کے شعبے میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے لگی۔دوسری جانب وزارت صحت کا کہنا ہے کہ وہ زخمی اور ہلاک ہونے والے افراد کی درست تعداد کا اعلان بعد میں کرے گی۔ وزارت صحت کے مطابق ہسپتال کے شعبہ کرونا میں 200 مریض شہریوں کو بچا لیا گیا۔
ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس الم ناک حادثے میں 82افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوئے۔دریں اثنا متعدد لاپتہ مریضوں کے اہل خانہ نے اپنے پیاروں کی تلاش جاری رکھی۔ بعض افراد کے متعدد رشتے دار حادثے کے وقت ہسپتال کے مذکورہ شعبے میں زیر علاج تھے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق آگ لگنے کے بعد کی صورت حال بیان سے باہر ہے۔ کووڈ-19 کے مریضوں کے شعبے میں آگ تیزی سے پھیل جانے کے سبب لوگ بڑی تعداد میں ہسپتال کی کھڑکیوں سے چھلانگیں لگا رہے تھے۔
عینی شاہد نے مزید بتایا کہ پہلے ہم نے پہلا دھماکا سنا اور پھر دوسرا دھماکہ اس کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی اور اس کا دھواں میرے بھائی تک پہنچ گیا۔ میں نے اپنے بھائی کو اٹھایا اور باہر سڑک پر لے گیا۔ میں لوٹ کر اندر گیا تو آخری منزل پر 19 سال کی عمر کے قریب ایک لڑکی وہاں پھنسی ہوئی تھی۔ اس کا دم گھٹ رہا تھا اور قریب تھا کہ وہ جان سے چلی جاتی۔
واضح رہے کہ عراقی حکومت نے آج علی الصبح ایک بیان میں ہفتے کے روز آگ لگنے کے اندوہ ناک واقعے پر تین روز کے قومی سوگ کا اعلان کیا۔عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے کل شام جاری ہدایات میں واقعے کی فوری تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا تا کہ ذمہ دار افراد کا پتہ چلا کر انہیں قرار واقعی سزا دی جا سکے۔
🔴 بسبب انفجار قناني الاوكسجين … اندلاع حريق في مستشفى ابن الخطيب الخاص بكورونا في العاصمة بغداد#حكومة_تشرين_القمعية pic.twitter.com/fbtzFDovK5
— ميثم الحمدي (@MaithamAlhmdy) April 24, 2021
جب کہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ابن الخطیب اسپتال میں فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا جب کہ مریضوں اور ان کے رشتہ دار عمارت سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔



