
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پانچ ریاستوں کے انتخابات میں کانگریس کی انتہائی کمزور کارکردگی کے باوجود پارٹی کی اعلی قیادت خوش ہے کیونکہ بی جے پی بنگال میں نہیں جیت سکی۔ اس خیال پر پارٹی کے اندر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دہلی میں پارٹی کے ایک قومی ترجمان نے ٹویٹ کیاکہ اگر ہم (کانگریس) مودی کی شکست پر اپنی خوشی تلاش کرتے رہیں گے تو ہم اپنی شکست پر کس طرح غور کریں گے؟۔ بہار سے بھی ایک پارٹی کے ریاستی ترجمان کابیان آیا ہے، جس نے کہا ہے کہ دوسرے کے گھر میں بچے کی پیدائش کی بہت خوشی منالی، اب آپ خود بھی کوشش کریں تاکہ آپ کا گھر بھی کھلے۔
این بی ٹی کے نیشنل پولیٹیکل ایڈیٹر ندیم نے کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری طارق انور سے بات کی تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ پارٹی اپنی شکست میں بھی کس طرح جیت دیکھ رہی ہے۔ بات چیت میں طارق انورنے کہاکہ شکست، فتح اور اتار چڑھاؤ سیاست کا ایک حصہ ہے۔ یہ صرف کانگریس کے ساتھ نہیں ہورہا ہے، اگر ہم ماضی میں جائیں تو دیگر تمام پارٹیوں کو بھی ایسے دور سے گزرنا پڑا ہے۔ ایسی مثالیں دنیا کے دوسرے جمہوری ممالک میں بھی پائی جائیں گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ مشکل ایام میں بھی اپنے نظریہ کے ساتھ کتنے مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں۔لیکن کانگریس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلسل شکستوں کے بعد بھی کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ہے؟ کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کیسے لگا رہاہے کہ ہم سبق نہیں لے رہے ہیں؟
حال ہی میں ہم 2014 اور 2019 کے دو انتخابات ہارے ہیں۔ اٹل جی کو بی جے پی میں مودی سے بڑا لیڈر مانا جاتا ہے۔ کانگریس نے ان کی سربراہی والی حکومت کو شکست دے کر مسلسل دو انتخابات 2004 اور 2009 میں کامیابی حاصل کی۔ لگاتار دو انتخابات ہارنے سے کیابی جے پی ختم ہوگئی تھی؟ بی جے پی کی تشکیل 1980 میں ہوئی تھی، اسے اقتدار میں آنے کا موقع 1996 میں ملا، اس حساب سے بی جے پی کو سیاست ہی ختم کردینی چاہئے تھی۔
اگر ہم 2014 سے 2021 کے درمیان اسمبلی انتخابات ہار گئے ہیں تو پھر ہم نے کچھ ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جب آپ اقتدار سے باہر ہوجاتے ہیں تو پارٹی کے اندر کچھ لوگ موجود ہوتے ہیں جو پارٹی لائن سے ہٹ کر باتیں کررتے ہیں۔ 2004 اور 2014 کے درمیان بی جے پی میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔



