بنگلور منشیات معاملہ: سنسنی خیز انکشافات،تلنگانہ کے تین ارکان اسمبلی اور دیگر چند افراد شک کے دائرہ میں
ایک رکن اسمبلی کے رول اور مزید دو ارکان اسمبلی کے بھی اس معاملہ سے جڑے ہونے کا بنگلورو پولیس کو شبہ
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن)ریاست کرناٹک میں سنسنی پیدا کردینے والے منشیات معاملہ کا دائرہ اب تلنگانہ تک پہنچ گیا ہے اس معاملہ میں بنگلورو پولیس ریاست تلنگانہ کے چند ارکان اسمبلی اور فلموں اور بیوپاریوں کے رول کی تحقیقات میں مصروف ہےبنگلور پولیس حالیہ عرصہ میں بعض سیاستدانوں اور صنعت کاروں کی جانب سے ڈرگ پارٹیوں کے انعقاد کی جانچ کررہی ہے۔ بنگلور پولیس کا دعویٰ ہے کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے 5 ارکان اسمبلی نے بنگلور اور حیدرآباد میں اس طرح کی پارٹیوں میں شرکت کی تھی۔ پارٹیوں میں ڈرگس سربراہ کرنے والے گروپ کے 7 ارکان کو حراست میں لینے کے بعد تحقیقات میں تیزی پیدا کی گئی ہے۔
عہدیداروں نے اگرچہ ارکان اسمبلی کے ناموں کا انکشاف نہیں کیا ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان اور دیگر مشتبہ افراد کے ذریعہ ارکان اسمبلی کے نام حاصل کئے گئے ہیں۔ 27 فروری کو بنگلور پولیس نے 2 نائیجیرین شہریوں کو گرفتار کرتے ہوئے 3.5 لاکھ مالیتی ڈرگس کو ضبط کیا تھا۔
تحقیقات کے دوران حیدرآباد کے دو صنعت کاروں کے نام منظر عام پر آئے اس کے علاوہ 5 ارکان اسمبلی کی شرکت کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں۔ کمشنر پولیس بنگلور کنول پنت کے مطابق تحقیقات کے دوران بعض عینی شاہدین کے بیانات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی تکمیل تک کچھ بھی کہا نہیں جاسکتا۔ اسی دوران پولیس نے کنڑ فلموں کے پروڈیوسر شنکر گوڑا کی قیامگاہ پر دھاوا کیا۔ ان کے علاوہ بعض جونیر آرٹسٹوں کو 23 مارچ کو حراست میں لیا گیا۔
تحقیقاتی عہدیدار نے کہا کہ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ایک صنعت کار کا بیان ریکارڈ کیا گیا جس نے پارٹی میں بعض ارکان اسمبلی کی موجودگی کا اقرار کیا۔ شہر سے تعلق رکھنے والے صنعت کار نے دعویٰ کیا ہے کہ 2 سال قبل انہوں نے بنگلور میں پارٹی میں شرکت کی تھی۔ وہ ایک تجارتی معاملہ کی یکسوئی کیلئے بنگلور گئے تھے.
اس سلسلہ میں بنگلورو پولیس کی جانب سے کھلے عام اس منشیات کے استعمال کرنے والوں، منشیات کے کاروبار اور پارٹیوں میں شرکت کرنے والوں کے ناموں کے اعلان کے بعد ممکن ہے کہ گرما کی شدت کے ساتھ ساتھ ریاست کی سیاست بھی گرم ہوجائے۔



