بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے!
عبدالمقیت عبید اللّہ فیضی
پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک الگ طرح کا ہنگامہ برپا ہے_ وہ بھی سوشل میڈیا کے ایک خصوصی پلیٹ فارم ٹویٹر پر_ جس پر شاید موجودگی ان لوگوں کی زیادہ ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، جو سماج و ملک کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے خواہاں ہیں_
یہ ہنگامہ اس وقت سے ہے جب سے کسان تحریک میں صحافیوں کو گرفتارکر کے ان پر مقدمات درج کئے گئے، کسان تحریک کی آواز بن کر ان کی آوازوں کو عوام تک پہنچانے والے مشہور ترین ایکٹوسٹ، سماجی کارکن، اپوزیشن جماعتوں کے سیاستدان اور مختلف اہل علم و قلم کار وغیرہ کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو ڈیلیٹ کر دیئے گئے_ وہ محض اس لئے کیونکہ انہوں نے وزیراعظم کے متعلق یہ ٹویٹ کیا تھا کہ وہ کسانوں کو مروانا چاہتے ہیں، ہندوستان میں ٹویٹر کو منیجمنٹ کرنے والے لوگ کسی ایک خاص پارٹی کی غلامی و چاپلوسی کر رہے ہیں، ہندوستان میں ٹویٹر سنگھی ہو گیا ہے_
اس پر حکومت نے بنا کسی جانچ پڑتال کے، بنا کوئی رائے جانے لاکھوں فالورز و کروڑوں لوگوں تک خبریں فراہم کرنے والے اکاؤنٹ بند کر دیئے_ یہ تمام ٹویٹر اکاؤنٹس ہندوستان کے وہ چنندہ اکاؤنٹ تھے جو فی الوقت حکومت کے دلوں و آئی ٹی سیل والوں کو تابڑتوڑ جواب دیتے تھے_ مزید ان اکاؤنٹس کو بند کرنے کی وجہ ہوم منسٹری نے یہ بتایا کہ یہ ٹویٹر اکاؤنٹ کسان تحریک کو اشتعال اور لوگوں کو بھڑکانے والے نظریات پیش کرتے ہیں_ جبکہ ان اکاؤنٹس کے ذریعے صرف کسانوں کی حمایت اور وہاں ہو رہے حقائق پیش کئے جا رہے تھے_
یہ دیکھ کر لوگ اس بات سے حیران ہیں کہ ان اکاؤنٹس میں صرف سماجی کارکن و ایکٹوسٹ کے اکاؤنٹ ہی نہیں شامل ہیں بلکہ جمہوریت کا چوتھا ستون کہے جانے والے میڈیا ہاؤسز کے ویریفائڈ اکاؤنٹ کو لاک کیا گیا ہے جن میں کارواں میگزین سرفہرست ہے_ اس کے علاوہ کسان ایکتا مورچہ، ٹریکٹر ٹویٹر، مشہور اداکار سشانت سنگھ، معروف سماجی کارکن محمد آصف خان، نوجوان لیڈر ہنس راج مینا کے اکاؤنٹس شامل ہیں_
بی بی سی کے ایک رپورٹ کے مطابق کم و بیش ٢٥٠ اکاؤنٹس پر حکومت نے نظر کشی کی اور انھیں ڈیلیٹ کرا دیا_
آخر کیوں؟ محض اس لئے کہ یہ تمام عوام کی آواز بن کر ان کی حمایت کر رہے تھے اس لئے؟ یا پھریہ کہ حکومت ان سے ڈر گئی تھی؟ خیر اگر اسے ہم اعلانیہ طور پر حکومت کے ذریعے کی جانے والی ایک متعصبانہ ایمرجنسی کہیں تو کوئی غلط بات نہیں ہو گا_ جس کو حکومت نے عوام کے ڈر سے انجام دیا_ جو کہ ایک جمہوری ملک میں سرا سر غلط ہے_ بحر حال شدید ردعمل کے بعد چند گھنٹوں میں تمام ٹویٹر اکاؤنٹ واپس کرنے پڑے، عالمی سطح پر بے عزتی کرانے کے بعد ہی یہ حکومت پریشر میں آتی ہے, خیر! اپنا اپنا مزاج ہے لیکن اوقات میں رہنا چاہیے_
قارئین! سوشل میڈیا پر یہ ہنگامہ تب مزید طول پکڑا جب کسان تحریک کو لے کر بین الاقوامی سطح پر آواز بلند ہونی شروع ہوئی_ ان آوازوں میں تین لڑکیوں کی آوازیں گریٹا تھنبرگ، رہانا و میاخلیفہ کی تھیں جن کے ایک ٹویٹ نے ہندوستانی حکومت کی دھجیاں اڑا دیں_ اس ضمن میں ہندوستان حکومت نے ایک نرالا رویہ اختیار کرتے ہوئے، وہ ہتھیار اپنایا جو عوام کی پسندیدہ تھی_ یا یوں کہیں کہ عوام کے پسندیدہ ستارے یا اسٹارز جن کی وجہ سے ان ستاروں کو شہرت ملی وہ حضرات کسانوں کی حمایت نہ کر کے حکومت کے حوالے سے لفاظیاں کرنے لگے_
ایک ایسا دن جس دن ہندوستان کا ایک باشعور طبقہ، ہندوستانی مردوں کا ایک ایسا گروہ جو پورا دن ایک عورت کے ٹویٹ سے لڑائی کرتا رہا اور اس پر مزید یہ کہ اپنے الفاظ نہ استعمال کر کے پورا کا پورا ٹویٹ کاپی و پیسٹ پر منحصر تھا_
بیرون ممالک کی ان بہادر لڑکیوں سے ٹویٹر پر لفاظی کرتے ہوئے ہمارے سلیبرٹیز جنہیں ہم اپنا رول ماڈل بناتے ہیں_ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے یہ کہا کہ کسان تحریک ہمارے ملک کا معاملہ ہے اس میں کسی غیر ملک کے عوام کو دخل اندازی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہم تمام ملک والے ایک ساتھ ہیں_
ایک ایسا جملہ جو نہایت ہی شرمندگی کا باعث بناتا ہے اسے ہمارے ملک کے فلم اسٹارز اکشے کمار، اجے دیوگن و سنیل سٹی اور ہمارے ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی وراٹ کوہلی، روی شاستری، سچن تندولکر، سکھر دھون، سریش رائنا و انل کنبلے جیسے لوگ اس جملے کی پیروی کرتے ہیں_ صرف انھوں نے ہی نہیں بلکہ ملک کے اور دوسرے لوگ بھی جو انھیں کی طرح مشہور ہیں ان تمام نے اس جملے کی حمایت کو اقرار کیا_ اور پورا دن ان لڑکیوں کو ٹویٹر پر ٹرول کرتے رہے_
آخر ایسے لوگ ہمارے آئیڈیل و رول ماڈل کیسے ہو سکتے ہیں؟ جو ہمارے مصائب کے وقت کام نہ آسکیں؟ جو ہمارے کسانوں کی حمایت نہ کر سکیں؟ آج ان تمام ٹویٹ سے میں بذات خود بہت شرمندہ ہوں، جنہیں میں اپنا کہیں نہ کہیں زندگی کے کسی شعبے میں رول ماڈل مانتا تھا ان سے ایسی امیدیں نہیں تھیں_
اس کے برعکس ان میں کچھ ایسے سیلبریٹیز شامل ہیں جنہوں نے کسانوں کی حمایت کی، ملک کے جمہوریت کا دامن تھامے رہے اور بغیر کسی ڈر و دباؤ کے اپنی باتوں کو اپنے تئیں لوگوں تک عام کیا_
اس فہرست میں ہندوستان کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر رہے عرفان پٹھان کا نام سرفہرست کروں گا کیونکہ یہ ایسے مسائل پر ہمیشہ اپنی آواز اٹھاتے ہیں_ کسان تحریک کو لے کر انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایک پرانے واقعے کو کوڈ کرتے کہا کہ ” جب امریکہ میں ایک پولیس والے کو وہاں کے لوگوں کے ذریعے مار دیا جاتا ہے، اس معاملے میں ہم دخل اندازی کر سکتے ہیں تو ہمارے معاملے میں وہ لوگ کیوں نہیں کر سکتے”
عرفان پٹھان کا یہ جملہ ملک کے ان لوگوں کو ناگزیر لگا جو کسانوں کو اتنکوادی، خلستانی و نکسلوادی سمجھتے ہیں، ان کے اس جملے پر پورا دن ان وام پنتھیوں نے ٹرول کیا_ لیکن وہ اپنے بات پر اڑے رہے_ ایک کرکٹر کے طور پر عرفان پٹھان کی جتنی عزت تھی، انکی اس زندہ دلی نے ہمارے دلوں میں کروڑوں گنا اور اضافہ کر دیا ہے_
اس کے علاوہ نام چین ہستیوں میں سے دو اور نام شامل ہیں جنہوں نے بے باکی کے ساتھ اپنے رائے رکھے_ ان میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے اوپنر بلے باز روہت شرما اور فلمی اداکارہ تاپسی پنو شامل ہیں_ جنھیں پچھلے کچھ دنوں سے لگاتار ٹویٹر پر ٹرول کیا جا رہا ہے_ لیکن سچ کے ساتھ کھڑے ہو کر وقت کو اس کا آئینہ دکھانے کے لئے ہم ایسے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں_
قارئین! علاوہ ازیں کسان تحریک کو بلندیوں تک لے جانے والی، بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنے والی لڑکی سے آپ کو روبرو کرانا مناسب سمجھتا ہوں جس کے ایک ٹویٹ سے ہندوستانی حکومت کے کان کھڑے ہو گئے_ میں بات کر رہا ہوں سویڈش کی ١٨ سالہ گریٹا تھنبرگ کی_ گریٹا یوروپ میں سویڈن کی ماحولیاتی طالب علم ہیں_ وہ ابھی صرف ١٨ سال کی ہیں، لیکن عالمی سطح پر ان کی شہرت ہے کیونکہ انھوں نے اپنی ہمت و جدوجھد سے عالمی لیڈروں و حکمرانوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لئے للکارا تھا_
١٥ سال کی عمر سے اس لڑکی نے سویڈن پارلیمنٹ کے باہر اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ احتجاج بھی شروع کر دیا تھا_ جسے پوری دنیا نے سنا اور دیکھا بھی_ ماحولیات کے میدان میں کئیو اعزاز سے گریٹا کو نوازا بھی گیا اور اس طرح انھوں نے اقوامِ متحدہ تک اپنا نمایاں کردار ادا کیا_ آج لاکھوں کی تعداد میں لوگ گریٹا کو فالو کرتے ہیں اور ان سے انسپائر بھی ہیں_
کسان تحریک کو گریٹا کی حمایت ملنے پر ہندوستانی وزیراعظم کو عالمی سطح پر سخت تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا_ لیکن یہ ہندوستان ہے، ان شرپسندوں کا ہندوستان جن کے ہاتھ نا جانے کتنے کالے کرتوتوں سے رنگے ہیں پھر بھی وہ حکمرانی کر رہے ہیں_
انھیں شرپسندوں کے حکم پر ملک کے راجدھانی کے پولیس نے سویڈن میں رہ رہی گریٹا کے اوپر ایف آئی آر درج کیا، گریٹا پر مقدمہ درج کر کے دہلی پولیس نے عالمی سطح پر اپنا چہرہ دکھا دیا ہے کہ کس قدر ہندوستان کے راجدھانی کی پولیس اپنے آقاؤں و رہنماؤں کے ناجائز احکامات کی غلامی کرتی ہے_
گریٹا جیسی ١٨ سالہ نوجوان لڑکی دنیا بھر کے نوجوانوں کے لئے ہمت و حوصلوں کی نشان ہے_ کسان تحریک کی حمایت کرنے پر جہاں اسے ٹویٹر پر ان شرپسندوں کے گالیوں و دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کیا گیا_ ان سب کے باوجود گریٹا نے اپنے موقف سے نا ہٹنے کا اظہارِ رائے پیش کیا ہے اس پر مزید یہ کہ گریٹا نے اپنے ایک دوسرے ٹویٹ میں کھلی طور پر اور مظبوطی کے ساتھ کسان تحریک کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے_
آج اس حرکت کے بعد دنیا بھر کے لوگ ہندوستان پر ہنستے اور مزے لیتے کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان حکومت اور پولیس کس گمان میں جی رہی ہے؟ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کس حد تک بزدل و کم ظرف ہے کہ اپنے خلاف دوچار ٹویٹ بھی برداشت نہیں کر پاتا_
ہمارا ملک ہندوستان اور یہاں کے عوام اس گوشے میں ہلکورے کھا رہے ہیں_ جہاں کے لوگ کبھی ٢٣ سالہ مسلم نوجوان شرجیل عثمانی کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں، تو کبھی مسلم رہنماؤں کے اور اب فی الحال گریٹا تھنبرگ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں_ ( بحوالہ بی بی سی ہندی)
موجودہ وقت کا ہندوستان بہت ڈرتا ہے، بچوں سے ڈرتا ہے، نوجوانوں سے ڈرتا ہے، عورتوں سے ڈرتا ہے، کاپی قلم و ایک عدد متحرک دماغ رکھنے والوں سے ڈرتا ہے_
خیر! گریٹا تھنبرگ پر ایف آئی آر کے ٢٤ گھنٹوں کے بعد عالمی سطح پر انڈین پولیس سسٹم پر تطنہ کشی اور ردعمل کے بعد بالآخر دہلی پولیس نے رجوع کر ہی لیا ہے کہ کسی خاص شخص کے خلاف مقدمہ درج نہیں کئے ہیں بس صرف ٹول کٹ پر مقدمہ کئے ہیں_
جبکہ دی ہندو، انڈین ایکسپریس، این ڈی ٹی وی، دی وائر اور پورے نیشنل میڈیا نے یہ خبر موصول کی تھی کہ دہلی پولیس نے گریٹا تھنبرگ کے خلاف ایف آئی آر درج کیا ہے_ بحر حال کتے کی دم ٹیڑھی ہی ہوتی ہے اسے کتنا بھی سیدھا کریں، یہ لوگ بھی ایک بار پھر عالمی سطح پر بے عزتی کے بعد اپنے اوقات میں آگئے ہیں_
بقول غالب صاحب…..
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن ،
بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے !!
اور ہاں! سن لو گریٹا تھنبرگ کو آپ چھو بھی نہیں سکتے، اب وہ محض ایک ١٨ سالہ نوجوان ہی نہیں رہی بلکہ اقوامِ متحدہ کے صفوں میں شامل ہے، عالمی شہرت یافتہ لڑکی ہے، تمہارے یہ دو ٹکے کے ٹویٹ اس کا بال باکہ بھی نہیں کر سکتے_ اس بات کو تمام شرپسند و ان کے تھنکرز بھی جانتے ہیں اور یہ گھمنڈی، نشے میں دھت حکومت بھی_
سلام ہے ان تینوں لڑکیوں کو و ان تمام لوگوں کو جنہوں نے کسان تحریک کے لئے آواز بلند کی اور کماحقہ کسانوں کے تئیں پیش پیش رہے اور اس تحریک کو اتنی بڑی تحریک بنائی جو اس جمہوری ملک کے لئے مثال ہو گا__
(کالم نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت میں زیر تعلیم)



