یوپی پنچایتی انتخابات،
لکھنؤ :(اردودنیا.اِن)اناؤ ریپ کیس میں سزا یافتہ بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر بی جے پی کے آشیرواد سے خود کو بچانہیں پا رہے ہیں۔ بی جے پی پارٹی نے پنچایتی انتخابات کے لئے کلدیپ کی اہلیہ سنگیتا سینگر کو ٹکٹ دیا ہے۔ انہیں ضلع پنچایت ممبر وارڈ نمبر 22-فتح پور چوراسی-3 سے میدان میں اتارا گیا ہے۔ اس سے قبل سن 2016 میں سنگیتا سینگر آزادانہ طور پر ضلع پنچایت صدر منتخب ہوئی تھیں ۔
واضح ہو کہ ٹکٹ کے اعلان کے بعد سے ہی اناؤ میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔اس کے علاوہ بی جے پی نے سبکدوش ہونے والے بلاک چیف ارون سنگھ کو اسوہا -2 اوربی جے پی کے قومی ایگزیکٹو ممبر آنند اوستھی کو ٹکٹ دیا ہے۔ بی جے پی نے اناؤ میں ضلع پنچایت ممبر کے لئے 51عہدے کے لئے امیدواروں کی فہرست جاری کردی ہے۔
سنگیتا سینگر کا سیاسی سفر: 2005 میں ، ضلع پنچایت ممبر ، سکندر پور سروسی -1 ، اناؤ۔ 2015 ضلع پنچایت ممبر ، میاںگنج -3، اناؤ۔ 2016 ضلع پنچایت صدر ، اناؤ۔ 2016 کے ضلع پنچایت صدر کے انتخاب میں ایس پی کے امیدوار جیوتی راوت اور ایس پی کے ممبر اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی اہلیہ سنگیتا سینگر کے مابین زبردست مقابلہ ہوا تھا ،
جس میں دونوں امیدواروں کو برابر 26-26 ووٹ ملے تھے ، جس کے بعد لاٹری کے ذریعہ سنگیتا سینگر کی جیت کا اعلان کیا گیا تھا۔واضح ہو کہ اناؤ میں کلدیپ سینگر اور اس کے ساتھیوں نے 2017 میں ایک نابالغ لڑکی کو اغوا کرکے اجتماعی عصمت دری کا ارتکاب کیا تھا۔ اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی نے کی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر اس معاملہ کو دہلی کے تیس ہزارہ کورٹ منتقل کیا گیا۔
دہلی عدالت نے کلدیپ سنگھ سینگر (53) کو مجرم قرار دیتے ہوئے 20 دسمبر 2019 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اسے موت تک جیل میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے علاوہ سینگر پر 25 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ا س کے کلدیپ سینگر کی اسمبلی رکنیت بھی منسوخ کردی گئی تھی، لیکن ایک بار پھر بی جے پی کی طرف سے کلدیپ سینگر کی بیوی کو اپنی پارٹی کا ٹکٹ دیا جانا سوالیہ نشان ہے۔



