پولیس نے سخت کارروائی شروع کردی
بھوپال: (اردودنیا.اِن)کورونا کی دوسری لہر کے درمیان بھوپال ، اندور اور جبل پور میں پہلا لاک ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔ اتوار کے روز اسپتالوں اور میڈیکل کے علاوہ تمام دکانیں بند رہیں۔ صبح صرف دودھ کی سپلائی کی اجازت تھی۔ پولیس سڑکوں پر تعینات رہی۔ اس میں بیرکیڈ بھی لگائے گئے ۔صبح نو بجے تک لوگوں کی آمدورفت نہ رکنے پر پولیس نے سختی شروع کردی۔
جنہیں پوچھ گچھ کے بعد رعایت دی گئی تھی انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن جانے والوں کو دو گنا کرایہ ادا کرنا پڑا۔ اندور کے ریگل چوراہے پر غیر ضروری طور پر سڑک پر نکل آئے لوگوں کے ساتھ پولیس نے سختی کا مظاہرہ کیا اور انہیں لاٹھیوں سے پیٹتے دکھائی دئیے۔ ہفتہ کی رات دس بجے شہر میں ایک طرح کا لاک ڈاؤن شروع ہوا۔
اتوار کی صبح اسپتالوں اور میڈیکل کے علاوہ تمام دکانیں بند رہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران دفعہ 188 نافذ ہے۔ یعنی بلا وجہ گھر چھوڑنے پر گرفتاری کے احکامات ہیں ، لیکن لوگ صبح نو بجے سے پہلے تک سڑکوں پر آتے رہے۔ پولیس بیرکیڈز لے کر اس کے ساتھ کھڑی تھی۔ بعد میں سختی کی ۔ گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران بھوپال میں متاثرہ افراد کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کے دوران مزید سخت رہنے کو کہا تھا۔ اگر دکاندار قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو 5000 روپئے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
اس کے بعد بھی اگر نہیں مانے تو دوسری اور تیسری بار میں 2 گنا یعنی 10000 روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس کے باجوود بھی دکاندار قوانین کی خلاف ورزی کرتا رہا تو اس کی دوکان کو سیل کردیا جائے گااتوار کی صبح دودھ والے کی آواز توآئی لیکن سبزیوں کی گاڑیاں غائب تھیں۔ یہاں تک کہ صبح چائے ناشتے کے اسٹال نہیں لگے تھے۔
پولیس نے ہفتہ کی رات دس بجے سے لاک ڈاؤن پر تعینات ہوگئی ہے ۔ تاہم صبح کے وقت سڑکوں پرآمدورفت تھی۔ اس کے بعد پولیس نے صبح 9.30 بجے کے بعد بیریکیڈ لگا کر سڑکیں بند کیں اور لوگوں سے پوچھ گچھ شروع کردی۔ اسپتالوں اور میڈیکل کے علاوہ شہر میں تمام بازار اور دکانیں بند ہیں۔ چیکنگ 34 پوائنٹس پر جاری ہے۔ 1500 جوان تعینات کردیئے گئے ہیں۔ تاہم یہاں نقل و حرکت پر مکمل طور پر پابندی نہیں ہوسکی ہے۔



