
مشن یوپی کیلئے رام مندر کا ایشواہم ، ہند ؤں کے جذباتی پہلو ؤں کو کیا جائے گا کیش
لکھنؤ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مغربی بنگال انتخابات میں ممتا بنرجی کی بنگالی شناخت کے معاملہ پر گھٹنے کے بل شکست تسلیم کرچکی۔ بی جے پی اب ان امور کا سہارا لے گی، جوکہ یوپی اسمبلی انتخابات میں عام ہندوؤں کے جذبات و عقیدت سے تعلق رکھتے ہوں گے ۔ پارٹی کے قابل اعتماد ذرائع کے مطابق بی جے پی رام مندر کو مرکز میں رکھ کر پوری مہم کا خاکہ تیار کرے گی ۔
بی جے پی ہائی کمان بھی اس بات سے متفق ہے کہ جس طرح ممتا بنرجی نے بنگالی شناخت کا معاملہ اٹھاکر بی جے پی کو شکست فاش دی تھی ، اسی طرح بی جے پی رام مندر کا مسئلہ اٹھا کر ہندوؤں کو آسانی سے اپنے مشن سے جوڑ سکتی ہے ۔بی جے پی کے ایک سابق ریاستی صدر نے مقامی اخبار]دینک بھاسکر[ سے گفتگو میں کہا کہ بی جے پی قوم پرستی اور مذہبی جذبات سے تعلق رکھنے والے امور کو ملحوظ نظررکھ کر ہی یوپی انتخابات کی تیاری کرے گی ۔
پارٹی کے مطابق رام مندر کے مسئلہ کو مہم کااہم حصہ بنانا چاہئے ،کیونکہ رام مندر بی جے پی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ خاص طور پر ہندوؤں کے ایک بڑے طبقہ کو رام مندر سے جذباتی لگاؤ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ دیکھیں کہ کس طرح بنگال انتخابات میں جس طرح بنگالی شناخت کے مسئلہ نے غلبہ حاصل کیا ، اس نے ممتا کو الیکشن جیتنے میں بہت مدد کی، اس طرح کے امور ہمیشہ مؤثر ہوتے ہیں جو لوگوں کے جذبات سے وابستہ ہوا کرتے ہیں۔
اسی کے پیش نظر آنے والے دنوں میں کارکنان کو جوڑنے کے لئے ’’ایودھیا تو صرف جھانکی ہے ، کاشی متھرا باقی ہے ‘‘ کے نام سے ایک مہم چلائی جائے گی ۔ بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ انتخابی مہم کو دو مرحلے میں رکھا گیا ہے۔ اس وقت و بائی مرض کے پیش نظر عوامی تقریبات پر توجہ دی جائے گی، لیکن انتخابات قریب آتے ہی عوام کے ذہن کو اُن امور کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی جائے گی ، جو امور بی جے پی کے کٹر ہندوتوا شبیہ سے وابستہ ہیں۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق پارٹی تنظیم کے عہدیدار بی ایل سنتوش اور رادھا موہن سنگھ نے بھی ملاقات کے دوران تشویش کا اظہار کیا تھا کہ کارکنوں کی نچلی سطح پر رابطے میں کمی آرہی ہے۔ پارٹی کے دونوں رہنماؤں نے اس پر زیادہ توجہ دینے کی ہدایت دی تھی۔ دونوں نے تسلیم کیا تھا کہ زمینی رابطے میں کمزوری کے سبب اپوزیشن جماعتوں کو غلبہ حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگوں میں حکومت کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
وبا کی دوسری لہر میں بھی یوگی حکومت کو اپنے وزراء ، ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی ناراضگی دیکھنی پڑی ہے ، حس کی وجہ سے پارٹی کسی بھی قسم کاکوئی ’ رسک‘ نہیں لینا چاہتی ہے۔ کئی وزراء ، ایم ایل اے نے براہ راست سی ایم یوگی کو خط لکھ کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ اس کی وجہ سے پارٹی حکومت کے کئے کاموں کے ساتھ ہندؤں کے تعلق رکھنے والے جذباتی امور کو کیش کرنے کی کوشش کرے گی ۔



