تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ: انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ٹیچرکی کورونا سے موت، شوہر نے کہا- میری زندگی برباد ہوگئی، کیا انتخابات اتنے اہم ہیں؟

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ میں ایک اسکول کے ایک ٹیچر کی کورونا سے موت ہوگئی ہے۔یہ اساتذہ 17 اپریل کو تلنگانہ میں ناگرجنا ساگر اسمبلی ضمنی انتخاب کے لئے انتخابی ڈیوٹی پر تعینات کی گئی تھی ، جس کے بعد وہ کورونا سے متاثرہ پائی گئیں اور اب ان کی موت ہوگئی ہے۔معلومات کے مطابق سندھیا نامی ٹیچراپنے پیچھے ایک آٹھ سالہ بیٹی اور اپنے شوہر کو چھوڑکر اس دنیا سے چلی گئی۔ سندھیا کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ سیاست اور انتخابات کے مابین کورونا وبا کی وجہ سے ان کی زندگی برباد ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق سندھیا کو 20 اپریل کو کورونا سے متاثر پایا گیا تھا۔ ایک ہفتہ بعد ان کی طبیعت خراب ہوگئی اور انہیں حیدرآباد کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ان کی طبیعت مسلسل خراب ہوتی گئی اور 35 سالہ سندھیا کی8 مئی کوموت ہوگئی۔سندھیا کے شوہر کمن پتی موہن راؤ کا کہنا ہے کہ میں نے صرف اپنی بیوی نہیں بلکہ اپنی زندگی بھی کھو دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایم ایل اے کی وجہ سے اتنے سارے لوگوں کی جانچ جاچکی ہے ۔ میری اہلیہ کی جان چلی گئی ۔ میرا کنبہ تباہ وبرباد ہوگیا ہے۔

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے پوچھاکہ کیا انتخابات لوگوں کی زندگی سے زیادہ اہم تھے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ انتخابات بعد میں نہیں ہوسکتے؟ کیا یہ لاک ڈاؤن کے بعد نہیں ہوسکتے؟ یا جب سارے لوگوں کو کورونا کا ٹیکہ لگ جاتا تب انتخابات کرائے جاتے ۔

انہوں نے کہا کہ میری سندھیا پولنگ ڈیوٹی پر تھی جہاں وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ نے ایک بڑا جلسہ عام کیا جس کے بعد وزیراعلیٰ سمیت سیکڑوں افراد کورونا سے متاثر پائے گئے۔تلنگانہ ہائیکورٹ نے کہا کہ ریاست میں اسمبلی ضمنی انتخابات کے دوران کورونا سے متاثر ہونے والے تقریبا 500 اساتذہ کی کورونا جنگجوؤں کے طور پر یاد کیا جانا جائے، ساتھ ہی انہیں معاوضہ بھی دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button