تلنگانہ:(اردودنیا.اِن) پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنس جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ تلنگانہ کے پرائیویٹ اسکولوں کے ٹیچرس کی امداد کی اسکیم پر عمل میں کئی خامیاں ہیں جس کی وجہ سے بے شمار مستحق اساتذہ مدد سے محروم رہے۔ کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان خامیوں اور تکنیکی مسائل کو دور کیا جائے اور اصلاح کے بعد تمام مستحق اساتذہ و غیرتدریسی اسٹاف کے ارکان کے لئے امداد کو یقینی بنایا جائے۔
جے اے سی کے رہنماوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم میں پری پرائمری ٹیچرس، پارٹ ٹائم ٹیچرس، غیرتدریسی اسٹاف بشمول صفائی کارکنوں کو شامل کیا جائے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدہ داروں فضل الرحمن خرم، سید حیدر علی، محمد احمد حسین، محمد عبدالحکیم، میر محسن علی اور محمد مخدوم علی خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال ان اساتذہ کی مدد کی گئی ہے جو سرکاری ریکارڈ میں شامل ہیں جن میں زیادہ تر ٹرینڈ اساتذہ ہیں جب کہ پرائیویٹ اسکولوں میں زیادہ تعداد ان ٹرینڈ ٹیچرس اور پری پرائمری ٹیچرس کی ہے۔
اس کے علاوہ بڑی تعداد میں غیرتدریسی اسٹاف بھی برسرخدمت ہے اور سخت شرائط کی وجہ سے ان افراد کا احاطہ نہیں ہوسکا۔ جے اے سی لیڈروں نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ حقیقی معنی میں سماج کے معمار ہیں اور ان کے ساتھ وباء کے ان دشوارگذار حالات میں انصاف ہونا چاہئے۔ جے اے سی لیڈروں نے پرائیویٹ اسکولوں کے انتظامیہ کے مسائل بھی اٹھائے اور کہا کہ طویل عرصہ سے وباء سے متاثر ہونے کی وجہ سے ریاست میں سینکڑوں اسکولس بند ہو رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایک اندازہ کے مطابق صرف شہر حیدرآباد میں 200 سے زائد اسکولس بند ہوچکے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولس کے انتظامیہ کو عمارتوں کے کرائے، بجلی کے بل اور ٹیکسس ادا کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ جے اے سی لیڈروں نے حکومت سے خواہش کی کہ پرائیویٹ اسکولوں کے لئے بھی ایک راحت یا امدادی پیکیج دیا جائے۔ انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسکولوں کے بجلی بلس کو سلاب 7 کے تحت کیا جائے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے لیڈروں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی تعلیمی پالیسی میں شفافیت نہیں ہے۔ ریاستی حکومت نے پرائیویٹ اسکولس کے اساتذہ کو جو کورونا وائرس کی وباء سے پیدا حالات سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، 2 ہزار روپے اور 25 کلو چاول ماہانہ امداد فراہم کرنے کی اسکیم شروع کی ہے۔
جے اے سی لیڈروں نے کہا کہ اس اسکیم پر عمل کے لئے اسکول انتظامیہ سے صرف 2 ایام کار میں تفصیلات حاصل کی گئیں جس کی وجہ سے مدارس تمام ٹیچرس کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکے۔ جے اے سی لیڈروں نے کہا کہ ایسے اساتذہ اور غیرتدریسی اسٹاف کے لئے ایک اور موقع فراہم کرنا چاہئے۔



