قومی خبریں

تلنگانہ ہائی کورٹ نواب سے متعلق1952سے زیرالتوامعاملے پرجلدفیصلہ کرے:سپریم کورٹ

تلنگانہ ہائی کورٹ نواب سے متعلق1952سے زیرالتوامعاملے پرجلدفیصلہ کرے:سپریم کورٹ

سپریم کورٹ

نئی دہلی25جنوری(اردودنیا.ان) نواب حیدرآباد کی میراث سے متعلق معاملہ سنہ 1952 سے ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کوجلد حل کرنے کے لیے اقدامات کرنے کاحکم دیا ہے۔ یہ حکم سپریم کورٹ نے سید زاہد علی کی درخواست پر دیاہے۔

زاہد علی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا کیس 70 سال سے زیر سماعت ہے۔نچلی عدالت سے ان کے حق میں تین فیصلے آئے ہیں ، جس میں انہیں نواب سالار جنگ کا وارث قرار دیا گیا ہے اور انھیں جائیداد حوالے کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔

صرف یہی نہیں ، انھیں وارث کا سرٹیفکیٹ بھی دیا گیا ہے۔ سید زاہد علی کے مطابق انہوں نے مرکزی وزارت داخلہ کو اس سلسلے میں متعدد خط لکھے ہیں ، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ نچلی عدالت کے فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج کیاگیاہے ،

لہٰذایہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التواہے۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس (سی جے آئی) جسٹس ایس اے بوبڑے نے تشویش کا اظہار کیا کہ یہ کیس اتنے سالوں سے زیر سماعت ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ سے معاملے کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے اقدامات کرنے کوکہاہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button