نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)گذشتہ سال فروری میں شمال مشرقی دہلی میں فسادات سے متعلق ایک کیس میں گرفتار جے این یو کے سابق طالب اوراسٹوڈنٹ لیڈر علم عمر خالدکو کورونا وائرس سے متاثر پایا گیا ہے اور انہیں تہاڑ جیل کے احاطے میں تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ عہدیداروں نے یہ اطلاع دی۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ عمر خالد کی بیماری کے علامات سامنے آنے کے بعد جانچ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہفتے کے روز ہونے والی تحقیقات کے نتائج میں انفیکشن کی تصدیق ہوگئی ہے۔
بتادیں کہ 15 اپریل کو شمال مشرقی دہلی تشدد کیس میں دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو عمر خالد کی ضمانت منظور کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ خالد کو صرف تشدد میں ملوث افراد کی شناخت کے لئے غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔ کڑکڑڈوماعدالت نے عمر خالد کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ اروگیا ستو ایپ کو موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرنا پڑے گا۔
ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ عمر خالد کو ہر تاریخ کو پیش ہونا پڑے گا۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اسے اپنا موبائل نمبر کھجوری خاص کے ایس ایچ او کو دینا پڑے گا اور موبائل کو ہر وقت چالو رکھنا ضروری ہوگا۔قابل ذکر ہے کہ دسمبر 2020 میں عمر خالد پر دہلی پولیس نے دہلی تشدد کیس میں ایک ضمنی چارج شیٹ درج کی تھی۔
خالد پر الزام ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی سول رجسٹر (این آر سی) کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگوں کو مشتعل کرکے فرقہ وارانہ بدامنی کو اکسانے کی مجرمانہ سازش کی ہے۔ گذشتہ سال 13 ستمبر کو دہلی پولیس کے خصوصی سیل نے خالد کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت 10 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کیا تھا۔



