تین اجنبی کرونامریض جی ٹی بی اسپتال میں ایک آکسیجن سیلنڈرپرزیرعلاج دہلی جی ٹی بی اسپتال کارقت آمیزمنظر
ممبئی:(اردودنیا.اِن)کروناکی دوسری لہرنے اسپتالوں میں بسترکی کمی،آکسیجن سیلنڈرکی عدم دستیابی اورضروری ادویات کی قلت نے کرونامتاثرین کی تکالیف میں اسقدراضافہ کردیاہے کہ آخری وقت میں ایک سے زائدمریضوں کی اسپتال میں ایک آکسیجن سیلنڈرسے ہی جانیں بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔صحافی جگناساسنہانے سوشیل میڈیا پر انڈین ایکسپریس کیلئے پیش کردہ رپورٹ میں دہلی کے جی ٹی بی ا سپتال سے متعلق رقت آمیزواقعہ کی منظرکشی کی ہے۔
صحافی موصوف کے مطابق دہلی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے تین اجنی کرونامریض پروتی(۷۵؍سال)دیپک (۴۰؍سال)اوراوم دت (۶۵ ؍ سال)علاقہ کے کافی اسپتالوں کاچکرکاٹنے کے بعددہلی کے جی ٹی بی اسپتال میں ایسے وقت پہنچے جبکہ اسپتال میں بسترخالی نہیں تھے اورآکسیجن سیلنڈرکی بھی کمی تھی۔
اسپتال عملہ نے فرض شناسی کاثبوت دیتے ہوئے تینوں مریضوں کے علاج کاانتظام اسپتال کے آنگن میں ہی کردیا۔تینوں مریضوں کوفرش پرلٹاکر صرف ایک آکسیجن سیلنڈرسے انہیں سانس کی تکلیف سے بچانے کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق تینوں مریضوں کے رشتہ داراپنے متعلقہ مریضوں کی نگرانی کررہے ہیں ساتھ ہی ڈاکٹراوردیگرطبی عملہ بھی مقررہ اوقات میں تینوں مریضوں کے علاج میں مصروف ہے۔



