برلن : (ایجنسیاں)جرمن وفاقی استغاثہ کا کہنا ہے کہ مبینہ اس گروپ نے جرمنی کے حکومتی اور سماجی نظام کو تباہ کرنے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔بارہ جرمن شہریوں کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی۔ ان افراد پر سماجی بد امنی کو ہوا دینے اور حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے مقصد سے مسلمانوں، پناہ گزینوں اور سیاسی دشمنوں پر مہلک حملے کرنے کا الزام ہے۔
جنوب مغربی شہر اسٹاٹ گارٹ کی عدالت میں زیر سماعت مقدمے میں وفاقی استغاثہ کا الزام ہے کہ ان میں سے آٹھ افراد مبینہ گروپ ایس کے مشتبہ رکن ہے، جنہوں نے ستمبر2019 میں ایک دہشت گرد تنظیم قائم کی تھی۔استغاثہ کے مطابق انتہائی دائیں بازو کے اس گروپ کی قیادت وارنر ایس اور ٹونی ای نام کے ملزموں کے ہاتھوں میں تھی۔ جرمن رازداری قانون کے تحت ملزمین کے نام ظاہر نہیں جا سکتے۔
تین دیگر افراد پر ایک دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے کا الزام ہے جبکہ بارہویں ملزم پر گروپ کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے اراکین وفاقی جمہوریہ جرمنی میں فساد برپا کرکے ریاستی اور سماجی نظام کو تباہ کرنا چاہتے تھے تاکہ ملک میں خانہ جنگی جیسی صورت حال پیدا ہو جائے،انہوں نے اس کے لیے سیاسی رہنماوں (جن کی ابھی شناخت نہیں ہوسکی ہے)، پناہ گزینوں اور مسلمانوں پر حملے کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا۔
نیشنل سوشلسٹ انڈر گراؤنڈ‘ گروپ ’این ایس یو‘ کے ارکان کئی سالوں تک جرمنی میں لوگوں کو قتل کرتے رہے ہیں۔ ان واقعات میں مبینہ طور پر اووے منڈلوس، اووے بوئنہارڈ اور بیاٹے چَیپے ملوث رہے۔ ان تینوں پر الزام ہے کہ انہوں نے آٹھ ترک نژاد، ایک یونانی نژاد اور ایک خاتون پولیس اہلکار کو غیر ملکیوں سے نفرت کی وجہ سے قتل کیا تھا۔ 2011تک یہ افراد حکومت کی نظروں سے اوجھل رہنے میں کامیاب رہے۔ گروپ ایس کے اراکین کو گزشتہ برس فروری میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے پاس سے حملوں میں استعمال کے لیے ہتھیار، کلہاڑیاں اور تلواریں برآمد کی گئیں تھیں۔
یہ تمام لوگ جرمن شہری ہیں۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ گروپ کے افراد ایک دوسرے سے رابطے کے لیے بالخصوص فون یا میسیجنگ ایپ کا استعمال کرتے تھے لیکن ان کی براہ راست میٹنگیں بھی اکثر ہوا کرتی تھیں۔
مقدمے کی کارروائی، جو اگست تک چل سکتی ہے، ایسے وقت شروع ہوئی ہے جب جرمنی میں دائیں بازو کی انتہاپسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفرکا کہنا ہے کہ دائیں بازو کی انتہا پسندی جرمنی کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ ہے۔



