بین الاقوامی خبریں

جرمنی کو اب تیسری لہر سے بچنا ہے: چانسلر میرکل

جرمنی کو اب تیسری لہر سے بچنا ہے: چانسلر میرکل

Sean Gallup / Getty Images

برلن:( ایجنسی) جرمن چانسلر نے اعتراف کر لیا ہے کہ کووڈ ویکسین لگانے کا سست آغاز ’باعث مایوسی‘ ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جلد ہی یہ عمل تیز ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ تیسری لہر سے بچنے کے لیے جرمنی کو ’اسمارٹ‘ ہونا پڑے گا۔جرمنی میں کووڈ انیس سے نمٹنے کے لیے لوگوں کو ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

تاہم یہ عمل توقعات کے برعکس انتہائی سست رفتاری سے شروع ہوا ہے۔ اس تناظر میں جرمن حکومت کو تنقید کا سامنا بھی ہے۔جمعہ کے دن جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اعتراف کیا کہ ویکسین لگانے کا سست آغاز مایوسی کا باعث ہے لیکن ملک میں قائم ویکسین لگانے والے تمام سینٹرز جلد ہی مکمل طور پر فعال ہوتے ہوئے اس عمل میں تیزی لے آئیں گے۔

جرمنی میں اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے گزشتہ برس دسمبر میں ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق تقریبا تین اعشاریہ آٹھ ملین ویکسین لگا بھی دی گئی ہیں۔جرمنی میں نمائش کے لیے بنائے گئے خصوصی ہالوں اور اسپورٹس سینٹرز میں ویکسین لگانے کے خصوصی مقامات بنائے گئے ہیں۔

تاہم ان مقامات پر اتنے لوگوں کو ویکسین نہیں دی جا سکی، جتنا کہ نرسنگ ہومز اور ہسپتالوں میں دی گئی ہیں۔جرمن حکومت کے مطابق تین مختلف ویکسین برانڈز کے استعمال کی منظوری دی جا چکی ہے،

جس کے باعث آئندہ ہفتوں میں لوگوں کو ویکسین لگانے کا عمل زیادہ تیز ہو سکے گا۔بتایا گیا ہے کہ ایسٹر (اپریل کے پہلے ہفتے) تک ایسے افراد کو ویکسین لگانے کی پیش کش کر دی جائے گی،

جو اس عالمی وبا سے زیادہ متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ میرکل کے بقول مارچ اور اپریل میں ویکسین لگانے والے تمام سینٹرز بھرپور طریقے سے فعال ہو چکے ہوں گے۔ جرمن چانسلر میرکل نے کہا ہے کہ کورونا لاک ڈاؤن کو نرم کرنے کا سلسلہ مرحلہ وار ہونا چاہیے تاکہ کووڈ کی تیسری لہر سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button