
بلندشہر، 3 فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے صدر اکھلیش یادو نے اپیل کی کہ امبیڈکروادیوں کو بھی سماجوادیوں کے ساتھ آنا چاہئے اور آئین اور جمہوریت کو بچانے کے لئے اپنی لڑائی کو مضبوط کرنا چاہئے۔اپنے اتحادی پارٹنر راشٹریہ لوک دل کے صدر جینت چودھری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اکھلیش نے بی ایس پی (بہوجن سماج پارٹی) کی صدر مایاوتی کی انتخابی مہم شروع کرنے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر کہاکہ میں نے کہا ہے کہ سوشلسٹ امبیڈکرائٹس کو بھی ان کے ساتھ آنا چاہیے، کیونکہ آئین کو بچانا ہے، جمہوریت کو بچانا ہے، اگر یہ نہ بچایا گیا تو سوچئے ہمارے حقوق کا کیا بنے گا۔میں ایک بار پھر اپیل کرتا ہوں کہ ہم متنوع لوگ ہیں، سرخ ہمارے ساتھ ہے، سبز، سفید، نیلا،ہم چاہتے ہیں کہ امبیڈکروادی جمع ہوں اور اس لڑائی کو مضبوط کریں۔اکھلیش سے پوچھا گیا کہ سال 2019 میں ہوئے گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد تھا اور اس بار بی ایس پی الگ الیکشن لڑ رہی ہے، کیا اس کا اسمبلی انتخابات میں خاص طور پر مغربی اتر پردیش میں کوئی اثر پڑ رہا ہے؟۔ایس پی صدر نے ’گرمی‘ والے بیان پر اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ریاست میں جو ہوا چل رہی ہے، اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ کو یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ کیا کہاجائے۔



