بین الاقوامی خبریں

جوبائیڈن کی تقریبِ حلف برداری کی تیاریاں مکمل، دارالحکومت میں ہائی الرٹ

(AP Photo/Susan Walsh)

واشنگٹن ، ۲۰؍جنوری (ایجنسیز) نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن بدھ کی دوپہر ملک کے 46 ویں صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں۔دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر ہائی الرٹ ہے۔ امریکی صدر کی تقریبِ حلف برداری کے موقع پر کیپٹل کمپلیکس اور واشنگٹن مانیومنٹ کے درمیان نیشنل مال عموماً لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔ لیکن اس بار ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار مہمانوں کو ہی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔

تقریب کے دعوت نامے حاصل کرنے والوں میں بیشتر کانگریس ارکان اور دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں۔تقریب میں بائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن، نائب صدر کاملا ہیرس کے شوہر ڈگلس ایمہوف، سابق صدر براک اوباما، ان کی اہلیہ مشل اوباما، سابق صدر جارج ڈبلیو بش اور ان کی اہلیہ لورا بش، سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ و سابق وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن شرکت کریں گے۔جو بائیڈن امریکی وقت کے مطابق دن 12 بجے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے اور اْن سے چیف جسٹس جان رابرٹ حلف لیں گے۔ بعدازاں وہ صدارتی دستاویزات پر دستخط اور خطاب بھی کریں گے۔بائیڈن کی حلف برداری میں دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ اپنی خاندانی بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف لیں گے جو 1893 سے ان کے خاندان کے پاس ہے۔

اسی طرح نائب صدر کاملا ہیرس بھی سپریم کورٹ کی ایسوسی ایٹ جسٹس سونیا سوٹمائر سے حلف لیں گی۔ہیرس دو بائبلز پر حلف لیں گی جن میں ایک بائبل وہ ہے جس پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس تھرگڈ مارشل نے حلف لیا تھا جب کہ دوسری بائبل مرحوم ریگینا شیلٹن کی بائبل ہے جنہیں وہ اپنی دوسری ماں قرار دیتی ہیں۔بائیڈن کے حلف لینے سے قبل گلوکارہ لیڈی گاگا قومی ترانہ پڑھیں گی۔ بعدازاں گلوکارہ جینیفر لوپیز اور گلوکار گارتھ بروکس میوزیکل پرفارمنس پیش کریں گے۔تقریب کے اختتام پر اپسکوپل چرچ کے پادری سلویسٹر بیمن دعا کرائیں گے جس کے بعد بائیڈن اور ہیرس سبکدوش ہونے والے نائب صدر مائیک پینس اور ان کی اہلیہ کیرن پینس کو رخصت کریں گے۔بائیڈن اور ہیرس خصوصی گاڑی میں بیٹھ کر فوجیوں کی یادگار پر جائیں گے۔

بعدازاں وائٹ ہاو?س پہنچنے پر انہیں صدارتی اسکواڈ دیا جائے گا۔امریکہ کی تمام 56 ریاستوں اور زیرِ انتظام علاقوں میں پریڈ کا انعقاد کیا جائے گا جس میں امریکہ کی نمایاں شخصیات کی کارناموں کو سراہنے کے علاوہ امریکی ثقافت کو اجاگر کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ البتہ انہوں نے اپنے الوداعی ویڈیو پیغام میں نئی انتظامیہ کے لیے ‘نیک خواہشات’ کا اظہار کیا ہے۔

تقریبِ حلف برداری کی سیکیورٹی کے لیے امریکی ریزرو فوج نیشنل گارڈ کے 25 ہزار اہلکار تعینات ہیں۔ اور فوجی حکام نے منگل اپنے ایک اعلان میں 12 اہلکاروں کو ڈیوٹی سے ہٹانے کی تصدیق کی ہے۔سکیورٹی خدشات کی بنا پر نیشنل گارڈ کے 12 اہلکاروں کو ایسے موقع پر ڈیوٹی سے ہٹایا گیا ہے جب واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈز کے علاوہ وفاقی ایجنٹس ہائی الرٹ پر ہیں اور دارالحکومت فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا ہے۔پینٹاگون چیف کے ترجمان جوناتھن ہفمین نے منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 12 اہلکاروں میں سے دس کو ان کے سوالیہ رویے جب کہ دیگر دو کو نامناسب بیان بازی کی بنا پر ہٹایا گیا ہے۔ترجمان نے ڈیوٹی سے ہٹائے گئے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کے رویے اور نامناسب بیان بازی کی وضاحت نہیں کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button