جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے وقار کو پھر سے ٹھیس پہونچانےکی کوشش کی جارہی ہے :ایل کےکندن
رانچی:16؍جنوری(اردودنیانیوز)رانچی یونیورسٹی سینیٹ کےرکن پروفیسر ایل کے کندن نے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن کے صدر کےنام ایک مکتوب میںکہا ہے کہ جھارکھنڈ لوک سبھا آیوگ کےممبر ڈاکٹر تروینی ناتھ ساہو اور ڈاکٹر اجے کمار چٹو راج کا دستخط پروفیسر عہدہ پر ترقی دئے جانے کےلئے کرایاجانا نہ صرف دستوری نقطہ نظر سےغیر اصولی ہے بلکہ اخلاقی طور سے بھی غلط ہے ۔
پروفیسر کندن نے مزید کہا ہے کہ کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اس لئے اس کے اندر ممبر کے طور پر کام کررہے لوگو ں سےاعلی اخلاقی معیار کے مطابق اصولوں کی پابندی اور اس کے تحفظ کی امید کی جاتی ہے ، دستور کے بنیادی جذبات کےلحاظ سے لوک سبھا آیوگ کے ارکان عام لوگو ں اور سماج کےلئے اپنے کام اور کردار کے ذریعے مثال بنتے اور دوسروں کو بناتے ہیں ۔کمیشن کےارکان کے وقار ، ایمانداری اور مضبوط اخلاقی اقدار ،دانشمندی اور پر وقار کردار سے عام لوگوں او ر سماج میں ایک مثال قائم ہوتی ہے لیکن جھارکھنڈ لوک سبھا آیوگ میں دونوں مذکورہ ممبران کایہ منفی کردار جھارکھنڈ ریاست کےلئے بھی اچھی مثال نہیں ہے ،تاریخ تبدیل کئے جانے اور پرموشن کےمعاملے کو ان لوگوں نے جان بوجھ کر لٹکا کر رکھا ہے اس سے قبل بھی جھارکھنڈ لوک سبھا آیوگ کے نام نہاد ارکان کےکردار سے اس کی مقبولیت اور وقار کو ٹھیس پہونچ چکی ہے دوبارہ اس کھوئے ہوئے وقار کو بڑی مشکلوں کے بعد حاصل کیا جاسکا ہے ۔
مسڑ کندن نے کہا ہے کہ ان حالات میں آیوگ کے دونوں ممبروں کا انٹرویو نہیں کرایا جانا چاہئے کیونکہ اکتوبر 2019 کے بعد ملتوی کئے گئے کچھ مضامین کے انٹرویو کن وجوہات سے نہیں کرئے گئے اور نہایت جلد بازی اور عجلت میں ملتوی کئے گئے ۔ پرموشن کےمعاملے کو نپٹانے کے بجائے مذکورہ دونوں ارکان کے ذریعے انٹر ویو کےلئے جلد بازی دکھایا جانا شک وشبہات کو جنم دیتا ہے لہذا اس معاملہ پر دھیان دئے جانے کی ضرورت ہے ۔



