قومی خبریں

جھوٹے کیسز میں پھنسے افراد کو معاوضہ دلانے پر سپریم کورٹ غور کرے گا،مرکزکو نوٹس جاری

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)سپریم کورٹ نے جھوٹے فوجداری مقدمات میں ملوث لوگوں کو معاوضہ دینے کا نظام بنانے کے مطالبے پر سماعت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ آج عدالت نے مرکز سے نوٹس جاری کرکے اس معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔ درخواست میں یوپی کے وشنو تیواری کی مثال دی گئی ہے ، جو عصمت دری کے جھوٹے الزامات میں 20 سال سے جیل میں ہیں۔

عدالت نے جن دو درخواستوں پر نوٹس جاری کیا ہے وہ بی جے پی رہنما کپل مشرا اور وکیل اشوانی اپادھیائے کی ہیں۔ان درخواستوں میں جھوٹے مقدمات درج کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ وجے ہنساریہ اور وکیل اریجیت پرساد پیش ہوئے۔

پہلے جسٹس یو یو للت ، اندرا بینرجی اور کے ایم جوزف کی بنچ سماعت کے لئے راضی نہیں ہوئی ۔ ججوں کا خیال تھا کہ درخواست میں جو چیزیں مانگی جارہی ہیں ان کا مجرمانہ انصاف کے عمل میں پہلے سے جگہ ہے۔ الگ سے سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔وکلا نے ججوں کو اعتماد دلانے کی کوشش کی۔ ججوں نے آپس میں طویل بحث و مباحثے کے بعد اس معاملے پر نوٹس جاری کیا۔ جسٹس للت نے واضح کیا کہ یہ نوٹس جھوٹے مقدمات میں پھنسے افراد کو معاوضہ دینے کے لئے ہدایات بنانے کے مطالبہ پر جاری کیا گیا ہے۔

فی الحال عدالت صرف اس مطالبے پر غور کرے گی۔یوپی کے للت پور ضلع کے وشنو تیواری پر2000 میں ان ہی کے گاؤں کی لڑکی نے عصمت دری کا الزام لگایا تھا۔ لڑکی کا تعلق ایس سی؍ ایس ٹی ذات سے تھا۔ لہٰذا عصمت دری کے علاوہ وشنو پر ایس سی / ایس ٹی ایکٹ کی دفعات بھی نافذ کردی گئیں۔

اسے کچھ دن بعد ٹرائل کورٹ نے سزا سنائی۔ جنوری 2021 میں الہ آباد ہائی کورٹ کو پتہ چلا کہ یہ کیس غلط تھا۔ اس دوران وشنو تیواری نے اپنی زندگی کے 20 قیمتی سال جیل میں گزارچکے تھے۔ درخواست گزاروں کاکہنا کہ ملک بھر میں ایسے ہزاروں افراد موجود ہیں۔ موجودہ قانون ان کو انصاف دلانے کے لئے کافی نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button