
جیسی کرنی ویسی بھرنی‘خواجہ یونس پر UAPA لگانے والا سچن وازے آج خودUAPAکے بھنورمیں پھنس گیا
ممبئی:(اردودنیا.اِن)اس وقت مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال ہے الزام در الزام یعنی’آروپ پرتیاروپ‘ کا دور جاری ہے اپوزیشن بھارتیہ
جنتا پارٹی ریاست کی مہا وکاس اگھاڑی سرکار کو ’ستا‘سے بے دخل کرکے خود ’ستا‘ پر قبضہ کا خواب دیکھ رہی ہے مہاراشٹر وہ پہلی ریاست ہے جہاں بھاجپا کی سام. دام دنڈ بھید والی’نیتی‘ پوری طرح ناکام ثابت ہوئی فی الحال یہ ہمار’مدا‘نہیں ہے اور نہ ہی ہم ریاست میں جاری سلسلہ وار واقعات پر کوئی بحث کے موڈ میں ہیں دیش کے سب سے بڑے ’ادھیوگ پتی‘مکیش امبانی کے گھر کے قریب دھماکہ خیز مادہ سے لدی ایک کار کی برآمدگی اور اس میں ممبئی پولس کے ایک اسسٹنٹ انسپکٹر کے ملوث ہونے کی خبر نے اپوزیشن بھاجپا کو مہاراشٹر کی مہا وکاس اگھاڑی سرکار کے خلاف موچہ کھولنے کا موقع فراہم کردیا یقینی طور پر اس واقعہ نے شیو سینا راشٹروادی کانگریس اور کانگریس کی مہا وکاس اگھاڑی سرکار کو مشکل میں پھنسا دیا ہے
اپوزیشن لیڈر سابق وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس اور پوری بھاجپا ریاستی حکومت کے خلاف سرگرم ہوگئی لیکن سینیٹر و تجربہ این سی پی سربراہ شردہوار کی سیاسی چالبازیوں نے بھاجپا کو دوبارہ چت کردیا اس وقت یہ بھی ہمارا’مدا‘ نہیں ہے امبانی کی عالیشان رہائش گاہ کے قریب دھماکہ خیز مادہ سے لدی کار کھڑی کرنے کا کیا مقصد تھا یہ کس کے اشارہ پر ہوا یا کون کون اس معاملہ میں ملوث ہے
اس طرح کے تمام سوالوں کے جواب سامنے آتے جائیں گے انٹیلیا کیس کے کئی پہلو ہیں مگر ہم. ابھی صرف اس کے’مکھیاآروپی‘اسسٹنٹ پولس انسپکٹر سچن وازے پر ہی بات کررہے ہیں جو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی یعنی NIA کی حراست میں ہے اور آج ہی یہ خبر بھی آچکی ہے کہ سچن وازے پر Unlawful Activities Prevention Act جسے عام طور پر UAPA کہا جاتا ہے لگایا گیا ہے یعنی اب سچن وازے پر ملک دشمن یا دہشت گرد سرگرمیوں کی دفعات کے تحت مقدمہ چلے گا اس کا مطلب صاف ہے کہ اب سچن وازے کا بچ نکلنا آسان نہیں جہاں تک ممبئی پولس کے اس نچلے درجہ کے پولس افسر کی بات ہے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سچن وازے اور تنازعات کا چولی دامن جیسا ساتھ ہے آپ کو یاد دلادیں کہ ممبئی پولس کا یہ اسسٹنٹ انسپکٹر اس وقت سرخیوں میں آیا تھا جب اس پر ایک اعلی تعلیم یافتہ معصوم و بے گناہ مسلم نوجوان خواجہ یونس کے قتل کا الزام لگا تھا 25 فروری 2021 کو تقریباً 20 سال بعد ایک مرتبہ پھر وازے سرخیوں میں ہے خواجہ یونس معاملہ میں سچن وازے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن اب معاملہ مکیش امبانی کا ہے اس لئے اس مرتبہ سچن وازے پر قسمت کی دیوی شاید ہی مہربان ہو 2 دسمبر 2002 ء کو ممبئی کے گھاٹ کوپر علاقہ میں بیسٹ کی ایک بس میں بم دھماکہ ہوا تھا اس دھماکہ میں 2افراد ہلاک اور 50 افراد زخمی ہوئے تھے گھاٹ کوپر بم دھماکہ میں ممبئی پولس نے اورنگ آباد اور پربھنی کے کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے بم دھماکے کا آر و پی بنایا تھا اس کیس کی تفتیش سچن وازے کررہا تھا
پولس حراست میں ان نوجوانوں کو تھرڈ ڈگری ٹارچر کے ذریعہ ناکردہ گناہ قبول کرنے پر مجبور کیا جارہا تھا انویسٹی گیشن کے نام پر اس قدر مارا پیٹا گیا کہ انجینئر خواجہ یونس کی پولس حراست میں ہی موت واقع ہوگئی سچن وازے اور دیگر پولس اہلکاروں نے یہ جھوٹی کہانی بتائی کہ خواجہ یونس کو انویسٹی گیشن کے لئے اورنگ آباد لے جایا جارہا تھا اس وقت احمد نگر سے خواجہ پونس فرار ہوگیا 7 جنوری 2003ء کو خواجہ یونس کی گمشدگی کی رہورٹ درج کی گئی جبکہ اس معاملہ کے گواہوں کا یہ دعویٰ ہے کہ 6 جنوری 2003ء کو ہی خواجہ یونس پولس ٹارچر کے سبب جاں بحق ہوگئے تھے
سچن وازے اور دیگر پولس اہلکاروں نے اپنا جرم چھپانے کے لئے خواجہ یونس کے فرار ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا لیکن 2003ء میں جب یہ کیس CID کے حوالے کیا CID نے سچن وازے سمیت 14 پولس ملازمین کے خلاف چارج شیٹ پیش کرکے انہیں مجرم قرار دیا اور ریاستی حکومت سے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت طلب کی لیکن اس وقت کی کانگریس این سی پی حکومت نے صرف 4 پولس ملازمین کے خلاف مقدمہ کی اجازت دی
2011 ء کے شروع میں سچن وازے اور دیگر 3 پولس ایلکاروں کے خلاف خواجہ یونس مرڈر کا مقدمہ درج کیا اس اس سے پہلے ہی سچن وازے کو suspend کیا جا کا تھا قانون کے پھندے سے اپنی گردن بچانے کے لیے سچن وازے شیوسینا میں شامل ہوگیا اسے پتہ تھا کہ یہ سیاسی سہارا اسے قانون کے پھندے سے بچالے گا شیوسینا نے ریاستی اقتدار سنبھالتے ہی اپنے پرمکھ کو ملازمت پر بحال کرنے کی کوششیں شروع کردی تھیں شرمناک بات یہ ہے کہ جب کورونا کے بہانے مکھیہ منتری ادھو ٹھاکرے نے سچن وازے کو بحال کیا تو کانگریس اور این سی پی نے اس کی مخالفت نہیں کی ویسے کانگریس اور راشٹروادی کانگریس بھی ہمیشہ سچن وازے کی پشت پناہی کرتی رہی
لیکن ایک معصوم وبے گناہ کا لہو سچن وازے کا پیچھا کررہا ہے ایک عام کہاوت ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی وازے کے پاپ کا گھڑا کبھی نہ کبھی بھرنا ہی تھا جب وازے مہا وکاس اگھاڑی سرکار کے لئے ہی خطرہ بن گیا تو اسے حکومت نے suspend کرنے میں دیر نہیں کی ادھو کا یہ فیصلہ ان کی حکومت تو بچالے گا لیکن وازے کے پاپوں نے ممبئی پولس اور ریاستی حکومت پر جو داغ لگائے ہیں وہ اتنی آسانی سے نہیں دھل پائیں گے آثار تو یہی ہیں کہ اب NIA سچن وازے کو بچ نکلنے کا موقع نہیں دے گی اور انصاف کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ بے گناہ مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھانسنے اور خواجہ یونس کے تمام قاتلوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔



