سہارنپور:(ایجنسیاں)بیت الخلاکومودی حکومت بڑی حصولیابی مانتی رہی ہے۔لیکن شدت پسندتنظیم بجرنگ دل کویہ بھی قبول نہیں ہے۔جے شری رام کانعرہ لگاکرماب لنچنگ توعام بات ہوہی گئی ہے،اب اس نعرے کے ساتھ سرکاری ٹوائلٹ نشانے پرآگئے ہیں۔گرچہ تحریک پرتووزیراعظم کابیان آگیاہے کہ سرکاری املاک کونقصان نہ پہونچائیں۔لیکن سہانپورمیں سرکاری بیت الخلاء کومسمارکرناکیاسرکاری املاک کونقصان پہونچانے کے مترادف ہے یانہیں،اسی طرح یوگی بجرنگ دل اورہندومہاسبھاسے نقصان کاجرمانہ وصول کریں گے یانہیں ،یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔
یوپی کے سہارنپورمیں متنازعہ شدت پسندتنظیم بجرنگ دل کے لوگوں نے ’جے شری رام‘کے نعرے لگاتے ہوئے سرکاری بس اڈے پربنے ایک ٹوائلیٹ کمپلکس پر دھاوا بولا اور اسے مسمار کر دیا۔انہوں نے بتایاہے کہ یہ مندر کی دیوار سے متصل ہے۔ اگرچہ تقریباََ 40 سال پرانا ہے ، یہ بیت الخلا مندر کی دیوار سے چند فٹ دور تعمیرکیاگیاہے۔مندراور بیت الخلا کے درمیان ایک پتلی گلی بھی ہے۔ بس اسٹیشن ہونے کی وجہ سے یہاں بڑی تعداد میں مسافر آتے ہیں ،
لہٰذاحال ہی میں پرانے ٹوائلٹ کوبنایاگیاتھا۔ بدھ کی صبح تقریباََ ساڑھے گیارہ بجے بجرنگ دل کارکنوں نے ٹوائلٹ کمپلیکس میں توڑ پھوڑ کی اور بڑے ہتھوڑوں سے’جے شری رام‘کے نعرے لگائے۔ انہوں نے یہاں بنے خواتین کے بیت الخلا اور معذورین کے بیت الخلا بھی توڑ ڈالے۔وِش سنگھ ، جس نے خود کو آل انڈیا ہندو مہاسبھا کے مغربی یوپی کا صدر بتایا، وہ بیت الخلا پر حملے کی سربراہی کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر میڈیا کو بتایاہے کہ دو دن پہلے ہمارے ہندوبھائی آئے تھے ۔48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا۔ وہاں سے کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے ، تب ہم نے خود اسے توڑنے کافیصلہ کیا۔



