حق بات بولنا، سننا اور اس پر عمل کرنا اسلامی معاشرے کے بنیادی اوصاف
مولانا ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی کا بیان
(اردونیا.اِن) مولانا ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی (کامل الحدیث جامعہ نظامیہ)، خلیفہ و جاشین دوم حضرت ابو العارف شاہ سید شفیع اللہ حسینی القادری الملتانیؒ (سابق سجادہ نشین درگاہ امام پورہ شریف) و جنرل سکریٹری مرکزی مجلس فیضان ملتانیہ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ حق بات بولنے، سننے اور اس پر عمل کرنے سے انسان کو رضائے الٰہی، خوشنودی مصطفی، نفاست ذہن، اطمینان قلب، بالیدگی روح، برکتِ مال و اولاد اور حصول بہشتِ جاوداں جیسی نعمتیں ملتی ہیں۔
قرآن مجید نے مسلم معاشرے کو جن خطوط پر تشکیل دینے کا حکم فرمایا ہے ان میں حق بات بولنے ،سننے اور اس پر عمل کرنے کی تلقین بھی شامل ہے۔ مشترک اہداف و مقاصد کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ امت مسلمہ اس پر سختی کے ساتھ عمل کرے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت امر بالمعروف و نہی عن المنکرکے دو عظیم فرائض کو مقاصدِ نفسانیہ کے خلاف دیکھ کر نسیاً منسیا کررہے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ حق بات کہنے کا حوصلہ نہ رکھنے والا گونگا شیطان ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مسلم معاشرے میں بہت کم لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو ببانگ دہل حق بات بولتے ہیں، ذاتی مفادات ،اغراض و مقاصد کو بالائے طاق رکھ کر حق بات سماعت کرتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش وسعی کرتے ہیں۔ مسلم معاشرے کے حالات تو اس قدر بدتر ہوگیے ہیں کہ اہل حق اور رہبران طریقت ہونے کا دعوی کرنے والے بعض لوگ عدالتوں میں قسمیں کھاکر جھوٹی گواہی دے رہے ہیں اور باطل کی تائید و حمایت کررہے ہیں۔
اسلامی نہج پر مسلم معاشرے کی تشکیل کے لیے اس غلط روش کو بدلنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ زندگی کی بقا کے لیے ہوا کا استعمال لازمی ہے۔ حق گوئی انبیاءو مرسلین، علمائے کرام ، اولیائے عظام، ہادیان برحق اور ہر منصف مزاج سلیم الفطرت شخص کی مشترکہ صفت رہی ہے جس کے باعث اس مقدس گروہ کو اللہ تعالی نے نہ صرف حزب اللہ شمار کیا بلکہ اس بابرکت جمیعت کو ہر طرح کی معنوی و مادی کامیابی سے سرفراز فرمایا ہے
چونکہ ان میں ایمان محکم، تقوی و طہارت، عمل صالح، باہمی اعتماد و اتحاد بدرجہ اتم موجود تھا اور یہ تمام خصائل مرضیہ موجودہ مسلم معاشرے سے ناپید ہوتے جارہے ہیں کیونکہ ہمارے ایمان میں دن بہ دن ضعف اور کمزوری پیدا ہوتی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم میں نہ حق بات بولنے کی جرات ہے، نہ ہی حق بات سننے اور اس پر عمل کرنے کی ہمت جو اسلامی معاشرے کے بنیادی اوصاف ہیں۔ دوست وہ نہیں ہے جو ہماری کوتاہیوں اور خامیوں پر پردہ ڈالنے یا انہیں نظر انداز کرنے کی کوشش کرے بلکہ حقیقی دوست وہ ہے جو بروقت ہماری اصلاح کرے تاکہ ہمیں دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات ملے۔
لیکن آج ہم اکثر ایسے لوگوں کو اپنے حلقہ احباب رکھنا پسند کرتے ہیں جو ہر وقت ہماری تعریف کرے جبکہ ہمارا یہ غیر متزلزل عقیدہ ہے کہ سوائی انبیاءو مرسلین کی کوئی بشر معصوم عن الخطا نہیں ہے اس کی باوجود ہم اس شخص سے بہت ناراض ہوجاتے ہیں جو ہمارے عیوب کی نشاندہی کرتا ہے درحقیقت ہمیں اس شخص کا احسان ماننا چاہیے کہ اس نے ہمیں دنیا سے کوچ کرنے سے پہلے کردار کو درست کرنے کا سنہری موقع عنایت کیا ہے۔
جو لوگ حق بات کو سنتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں تو خدائی برحق ان کی اعانت و مدد فرماتا ہے اور جو لوگ حق بات کو نظر انداز کردیتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کرتے خداوند کریم ان کی اعانت نہیں فرماتا۔ کہا جاتا ہے کہ حقیقت میں وہ لوگ احمق ہوتے ہیں جو حق بات کو سننا پسند نہیں کرتے اور احمق کی حماقت سے جو مصیبت آتی ہے وہ فاسقوں، فاجروں اور بدکاروں کی گناہ سے بدتر ہوتی ہے۔
اسی لیے ہمیں بتلایا گیا کہ قول حق کو نہ سننا بدبختی، گمراہی اور جہنمیوں کی علامت ہے۔ قرآن مجید واضح الفاظ میں بیان فرمایا کہ سارے دوزخی جہنم کے داروغوںسے کہیں گے کاش ہم دنیا میں انبیاءو مرسلین کی ہدایت آمیزارشادات و احکامات ، نصائح و انذار کو توجہ سے سنتے، ان میں غور و فکر کرتے، ان سے استفادہ کرتے ،دنیاوی نعائم کی بے ثباتی کو سمجھتے اور اس کے مطابق اس پر عمل کرنے کی کوشش و سعی کرتے تو آج ہم جہنم میں نہ ہوتے۔
اس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں پہلی یہ کہ حق بات کو نظر انداز کرنا مومن کی شان کی خلاف اور جہنمیوں کی علامت ہے اور دوسری بات یہ کہ حق بات کو نہ سننا انسان کو جہنم میں لیجانے کا اہم سبب ہے۔بعض لوگ یہ سمجھ کر حق بات بولنی سے بچتے ہیں کہ ہمارے بولنے سے کیا فائدہ ہوگا ؟۔ ہماری یہ سوچ درست نہیں ہے چونکہ قرآن مجید نی ہمیں پیغام پہچانے کا مکلف بنایا ہے عمل کرنا یا نہ کرنا مخاطَب کی ذمہ داری ہے۔
بروز محشر سخت ترین عذاب ان لوگوں کو ہوگا جن کے علم سے لوگوں کو فائدہ نہ پہنچا ہو۔ انبیاءو مرسلین کی اطاعت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ مسلمان حق بات لوگوں تک احسن طریقہ اور خیر خواہی کی انداز میں پہنچاتے رہیں جسے دین اسلام میں جہاد کا درجہ حاصل ہے۔ اسی طرح غلط اقدامات کی نشاندہی کرنا ہر ذمہ دار مسلمان کا فریضہ ہے اور ہدایت عطا کرنا اللہ تعالی کی ذمہ کرم پر ہے۔
تاریخ اسلام شاہد ہے کہ ہر نبی و رسول نے اپنے اپنے زمانے میں حق بات کو لوگوں تک پہنچایا ہے جنہوں نے مانا اللہ تعالی نے انہیں عزت و توقیر سے نوازا اور جن اقوام نے بے اساس خیالات اور بے ہودہ گمانوں کی وجہ سے زندگی کو ہوا و ہوس اور بازیچہ اطفال سمجھتے ہوئے حق کو جھٹلایا یا اس کا انکار کیا تباہی ان کا مقدر بنی اور وہ اقوام گرفتار عذاب ہوئیں ۔
قرآن مجید نے اقوام فرعون، نوح، عاد، ثمود، لوط اصحاب الرس اور دیگر قومیں کی عبرتناک انجام کو بطور درس عبرت ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے مراتب و مناصب کو خاطر میں لائے بغیر حق بات کو سنیں چونکہ جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں ان کے حصہ میں کوئی خیر نہیں آتا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی خیر کا مجموعہ بنے تو ہمیں چاہیے کہ حق بات بولنے ،حق بات سننے اور اس پر عمل کرنے کا ملکہ و جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔
مومن کا تو یہی شیوہ ہوتا ہے کہ وہ حق بات کو بلاچون و چرا کے عملی طور پر اپنا لیتا ہے چونکہ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتا ہے کہ اسی میں دنیا و آخرت کی فوز و کامرانی مضمر ہے۔ جب ہر مسلمان ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائے گا تو اس کی برکت سے مسلم معاشرے میں امن و سکون، راحت و اطمینان ہر سو عام ہوجائے گا اور ہر میدان میں تعمیر و ترقی کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔
اسی لیے دین اسلام نے ہر حال میں حق بولنے، سننے اور اس پر عمل کرنے کو تمام مسلمانوں کی لیے واجب قرار دیا ہے چونکہ حق پر خاموشی اختیار کرنا اور اس پر عمل نہ کرنا انسان کی روحانیت کو کمزور کردیتا ہے۔
حضرت ابو ذرؓ کو وصیت فرماتے ہوئے حبیب الرحمن نے ارشاد فرمایا حق بات کہو اگرچہ کہ کڑوی ہو۔آج ہم حق بات بولتے ضرور ہیں لیکن اپنی سہولیات کے مطابق ۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اہل سیاست و اقتدار کے سامنے حق بات بولنے کی ہمت رکھتے ہیں،
ایمان و عقیدہ کے نام پر امت مسلمہ میں نفرتوں اور گروہ بندیوں کو بڑھاوا دینے والے نام نہاد مولویوں اور جعلی پیروں کو ان کی اصلیت کا آئینہ دکھاتے ہوئے حق بات بولنے کی جرات بہت کم لوگ رکھتے ہیں ۔ہماری اسی غلط روش کا نتیجہ ہے کہ مسلم معاشرے میں برائیاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔