تلنگانہ کی خبریں

حکومت تلنگانہ کی سوغات ، پرائیوٹ ٹیچرس کوماہانہ 2000 روپئے اور 25 کلو چاول کا اعلان

تلنگانہ:(اردودنیا.اِن)حکومت تلنگانہ کے خانگی اسکولس کے ٹیچرس اور دیگر غیر تدریسی عملہ کو آج حکومت تلنگانہ نے بڑی راحت دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسکولس کے دوبارہ آغاز تک خانگی ٹیچرس کو ماہانہ 2,000 روپئے اورانکے خاندان کیلئے ماہانہ 25 کلو چاول سربراہ کیے جائیں گے۔ کورونا وائرس کے دوران سرکاری اور خانگی تعلیمی اداروں کے بند کردئیے جانے کے باعث گزشتہ سال سے انتہائی معاشی مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا کررہے ہیں۔

 حکومت تلنگانہ کی سوغات ، پرائیوٹ ٹیچرس کوماہانہ 2000 روپئے اور 25 کلو چاول کا اعلان

چیف منسٹر چندراشیکھرراؤ نے آج شام سرکاری طور پر مسلمہ خانگی اسکولس کے ٹیچرس اور ان خانگی اسکولس کے غیر تدریسی عملہ کیلئے مشکل حالات میں مدد کے طور پر یہ امداد دی جائے گی ماہانہ 2,000 روپئے ان خانگی ٹیچرس کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کروائے جائیں گے جبکہ ماہانہ 25 کلو چاول سرکاری راشن شاپس کے ذریعہ سربراہ کیے جائیں گے۔اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ کے سی آر نے ریاست کے تمام مسلمہ خانگی تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے ٹیچرس اور اسکے غیر تدریسی عملہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ اور دیگر تفصیلات دفاتر ضلع کلکٹر میں جمع کروائیں۔

وزیر اعلیٰ کے سی آر نے فینانس سیکریٹری راما کرشنا راؤ کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں حتمی اقدامات کو قطعیت دیں۔وزیراعلیٰ کے سی آر نے کہا کہ ایسے مشکل حالات میں خانگی تعلیمی اداروں کے ٹیچرس اور غیر تدریسی عملہ کی انسانی بنیادوں پر مد د کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔وزیراعلیٰ کے سی آر کے اس حوصلہ افزاء اعلان کے بعد ریاست تلنگانہ میں موجود زائداز ایک لاکھ 45 ہزار خانگی ٹیچرس اور عملہ کو فائدہ پہنچے گا۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ گزشتہ سال کورونا وائرس کے آغاز کے بعد سے تعلیمی اداروں کو بند کردئیے جانے کے باعث خانگی اسکولس کے ٹیچرس اور دیگر غیر تدریسی عملہ کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔چند خانگی اسکولس کے انتظامیہ نے ہمدردی اور انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اپنے خانگی ٹیچرس اور دیگر عملہ کو نصف تنخواہیں ادا کی تھیں۔

جبکہ کئی خانگی اسکولس انتظامیہ نے مصیبت کی اس گھڑی میں بھی معمولی تنخواہوں پر ان کی خدمات کا استفادہ کرنے کے باوجود اپنے ٹیچرس کو بے یار و مددگار چھوڑدیا ہے۔یاد رہے کہ ان خانگی ٹیچرس میں زیادہ تعداد خاتون ٹیچرس کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button