تلنگانہ کی خبریں
دلیپ کمار کو بعد از مرگ بھارت رتن ایوارڈ د ینے مرکزی حکومت سے تلنگانہ مسلم انٹلیکچول فورم کا مطالبہ
دلیپ کمار "ایک عظیم اداکار” کتاب کی ریاض علی رضوی کے ہاتھوں رسم اجرائی
حیدرآباد:(پریس نوٹ)شہنشاہ جذبات دلیب کمار” ایک عظیم اداکار "کی رسم اجراء تقریب جس کے تخلیق کار ڈاکٹر مسعود جعفری ریاستی صدر تلنگانہ مسلم انٹلیکچول فورم حیدرآباد کی صدارت رویندرا بھارتی حیدرآباد میں منعقد کی گئی. جس کی رسم اجرائی ریاض علی رضوی ریاستی جنرل سیکریٹری تلنگانہ مسلم انٹلیکچول فورم حیدرآباد نے انجام دی۔
اس موقعہ پ انہوں نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دلیپ کمار صاحب کا دنیا سے أٹھ جانا اس صدی کا المناک سانحہ ہے. اور یہ ہندی فلمی صنعت کا یقیناً نا قابلِ تلافی نقصان ہے اور اس خلا کو پر کرنا ناممکن ہے۔
اس کتاب میں شامل ریاض علی رضوی کے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دلیپ کمار کو المیہ نگار کہا جاتا تھا. بہت سی فلموں میں انہوں نے غمگیمن کردار ادا کئے اور اپنی کردار نگاری کی گہری چھاپ ناظرین کے دلوں پر مرتب کرتے ہوئے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جس کی وجہ سے ایک زمانہ ان کی اداکاری کا قائل ہوگیا. وہ فطری اداکاری کے نقیب تھے۔
انسانی جذبات کی ترجمانی ان س بہتر کوئی اداکار نہیں کر سکتاتھا. ریاض علی رضوی ریاستی جنرل سیکریٹری تلنگانہ مسلم انٹلیکچول فورم حیدرآباد نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دلیپ کمار کو بعد از مرگ بھارت رتن ایوارڈ سے نوازنے تو جمہوریت کی راہ میں ایک مثبت قدم ہوگا. ڈاکٹر مسعود جعفری ریاستی صدر تلنگانہ مسلم انٹلیکچول فورم حیدرآباد نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دلیپ کمار نہ صرف ایک عظیم اداکار تھے بلکہ وہ ایک اچھے انسان بھی تھے جو امن کا پیکر اور عوام کو جوڈنے والی شخصیت تھے۔
قومی یکجہتی کی زندہ مثال ہونے کے علاوہ ہندوستانی فلمی صنعت میں سماجی حقیقتوں کی بھر پو ترجمانی کی ہے. منوج کمار کی فلم کرانتی میں دلیپ کمار نے انقلابی کردار کے زریعہ باغی کا کردار ادا کرتے ہوئے پردہ سمیں پر چھائے رہے. جن کو منظوم خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے میں اور ریاض علی رضوی صاحب نے ملکر اس کتاب کی اشاعت کی. ڈاکٹر انیس صدیقی سماجی جہد کار نے مخاطب کرتے ہوئے دلیپ کارکو ایک عظیم اداکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی درد مندی کی عکاسی اگر کسی نے کی ہے تووہ بلاشبہ دلیپ کمار ہی تھے۔
ڈاکٹر عصیم قریشی نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دلیپ کمار وہ اداکاری کا ایک انسٹیٹیوٹ تھے. انہیں غم کے جذبات کی ترسیل پر دسترس حاصل تھی. انہوں نے بتایا کہ فلم دیواداس کے بعد ان پر غم واندوہ کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ ڈاکٹرس نے انہیں ہلکے پھلکے رول ادا کرنے کو کہا بعد میں وہ انگلینڈ جاکر ماہر نفسیات سے اپنا علاج کروایا۔ ڈاکٹر سیادت علی نے مخاطب کرتے ہوئے مینا کماری کوٹریجیڈی کوئین تھیں تو دلیپ کمارٹریجیڈی کنگ کہا اور کہا کہ دلیپ کمار نے اپنی خودنوشت آپ بیتی. The Substanance and the shadow نے اپنی زندگی کے واقعات کو قلمبندکیا ہے. جس سے ان کی شخصیت کو سمجھنے کا موقعہ ملتا ہے۔
جناب مسعود علی اکبر کنوینر پروگرام نے مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ڈاکٹر ناظم علی ریٹائرڈ پرنسپل نظام آباد نے مخاطب کرتے ہوئے اداکاری کا فن ہر کسی کے بس کی بات نہیں. جو دلیپ کمار میں بدرجہ اتم موجود تھے. شئہ نشین پر فاروق احمد ریاستی صدر ٹی ایس میسا, محمد عبدا لنعیم ریاستی جنرل سیکریٹری تلنگانہ میسا,محمد فیاض علی ریاستی سیکریٹری ٹی ایس میسا, محمد اکرم علی موجود تھے۔



