آزاد صحافی مندیپ پونیا کوملی ضمانت ، دہلی پولیس کے ساتھ بدسلوکی کا تھا مبینہ الزام
نئی دہلی : (اردودنیا.اِن) کسان کے احتجاج کے دوران سنگھو بارڈر پر دہلی پولیس کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزام میں ہفتے کے روز گرفتار کیے گئے آزاد صحافی منڈیپ پونیا کو منگل کے روز عدالت نے ضمانت منظور کرلی ۔ پونیا کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے انہیں 25000 روپے کے ذاتی مچلکے پر ضمانت منظور کی ہے۔
اتوار کے روز مندیپ پونیا کو تہاڑ جیل میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا ، جس کے بعد انہیں 14 دن کے لئے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ جس کے بعد مندیپ پونیاکے وکیل نے کہا تھا کہ ان کی طرف سے دفاعی وکیل بھی حاضر نہیں ہوا تھا اور انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
پولیس نے الزام لگایا تھا کہ کچھ افراد بشمول صحافی بھی اس بلاکرز کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، جسے کسانوں کو روکنے کے لئے لگائے گئے تھے۔ صحافی نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بھی بدتمیزی کی، جس کے بعد اسے تحویل میں لیا گیا۔جمعہ کے روز کسانوں اور شرپسندوں کے ایک گروہ جو نریلا کی طرف سے آ یا تھا،سے جھڑپ ہوا ۔
دہلی کے علی پور پولیس اسٹیشن کا ایک ایس ایچ او بھی ا س جھڑپ میں زخمی ہوا، اس واقعے کے بعد کم سے کم 44 افراد کو گرفتار کیا گیا ، جس میں ایس ایچ او پر حملہ کرنے والا شخص بھی شامل ہے۔ آن لائن نیوز انڈیا کے آزاد صحافی مندیپ پونیا اور دھرمیندر سنگھ کو ہفتہ کی شام کو دہلی پولیس نے ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کے ساتھ بد سلوکی کے الزام میں گرفتار کیا تھا،
تاہم بعد میں دھرمیندر سنگھ کو رہا کیا گیا تھا ، لیکن پونیا کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا، پونیا کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ پونیا نے سنگھوبارڈر پر کسانوں کے ساتھ جھڑپ کررہے ہیں شرپسندوں میں شامل بی جے پی کے کارکنان کی نشاندہی کی تھی ۔ اور ان کارکنان کے تصاویر دیگر بی جے پی لیڈران کے ساتھ ویب پورٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر نشربھی کیا تھا ۔




