
نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)دہلی ہائی کورٹ نے جمعرات کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا کی ضمانت درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے تحت گرفتار تنہا نے گذشتہ سال فروری میں دہلی میں ایک بڑی سازش سے متعلق کیس میں ضمانت کے لئے درخواست دی تھی۔ جسٹس سدھارتھ مرڈول اور جسٹس اے جے بھمبھانی کی بنچ نے دہلی پولیس اور تنہا کے وکلا کے دلائل سنے اور ان سے 22 مارچ تک تحریری جواب داخل کرنے کو کہا۔
تنہا نے 26 اکتوبر 2020 کے عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس میں ان کی ضمانت کی درخواست کواس بنیاد پرخارج کردیاتھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر اس پوری سازش میں فعال کردار ادا کیا تھا۔دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل امان لیکھی ، امیت مہاجن اور رجت نیر نے ضمانت کی درخواست کی مخالفت کی اور دعوی کیا کہ فسادات پہلے سے طے شدہ تھے اور سازش رچی گئی تھی۔
وکلا کا کہنا تھا کہ ملزم کو ضمانت نہیں دی جانی چاہئے کیوں کہ اس کیس میں گواہوں کے بیانات موجود ہیں جو اس سازش میں تنہا کے مبینہ کردار کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔تانھا کو پچھلے سال مئی میں اس کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔تنہا کے لئے پیش ہوئے وکلاء سدھارتھ اگروال اور سوجنیا شنکران نے کہا تھا کہ انہوں نے تنہا کو ضمانت منظور نہ ہونے کو چیلنج کیا ہے۔



