پہلے خبر ملی مریض فوت کرگئے ، پھر پتہ چلا زندہ ہیں ، پھر فون آیا چل بسے !
رائے پور:(اردودنیا.اِن)رائے پور کے علاقہ موہبا بازار میں رہنے والے ایک کنبے کے ساتھ جوہوا ، اگر ایسا عوام کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرنے والے لوگوں کے ساتھ ہوں، توالمناکی کا انہیں بھی احساس ہو ۔ تفصیلات کے مطابق کووڈ سے متاثرہ مریض ستیش گرویکر کے بیٹے سوراج کو جمعہ کی شام بتایا گیا کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔
صبح لاش مردہ خانے سے لے جائیں ، اہل خانہ ساری رات روتے اور بلکتے رہے ، تمام رشتہ دار سوگ میں ڈوب گئے ۔جب ہفتہ کی صبح بیٹا ایمس کے مردہ خانہ سے لاش لینے گیا تو وہاں اس کے والد کی لاش موجود نہیں تھی، بیٹا اپنے والد کی لاش تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بار بار پوچھنے پر اسے بتایا گیا کہ اس کے والد باحیات ہیں ، البتہ وینٹی لیٹر پر ہیں ۔ لڑکے نے یہ خبر گھر والوں کو بتائی۔
لیکن یہ خوش فہمی محض چند گھنٹوں تک باقی رہی ، ہفتے کی سہ پہر کو ایمس کے ذریعہ بیٹے کو ایک بار پھر مطلع کیا گیا کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا ہے۔ جہاں بغیر نام اور مکمل پتہ ، طبی ٹیسٹ کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے ، وہاں مریض کے تعلق اس طرح کی غفلت کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ ایمس انتظامیہ ہمیشہ کووڈ پروٹوکول پر عمل کرنے اور مریض کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
لیکن اس واقعے نے مریضوں کیلئے انتظامات کی قلعی کھول دیتے ہیں ، اور کئی سارے سوالات جنم دیتے ہیں ۔ واضح ہو کہ ستیش گرویکر کو کرونا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی ،اس لئے انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔
اتوار کے روز مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے سوراج نے بتایا کہ صبح دیر تک انتظار کرنے کے بعد والد کی لاش ملی ، ہم اسے کوویڈ پروٹوکول کے تحت آخری رسومات ادا کر رہے ہیں ،لیکن میرے والد کے ساتھ جو ہوا وہ انتہائی غلط ہوا۔



