راتوں رات کس طرح سروے مکمل کیاگیا؟تلنگانہ کے برطرف وزیر کے معاملہ میں ہائیکورٹ کا سوال
تلنگانہ:(اردودنیا.اِن)اراضیات پر غیر مجاز قبضوں کے الزامات پر تلنگانہ کی کابینہ سے برطرف سابق وزیرای راجندر کے خاندان کی جانب سے تلنگانہ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا جنہوں نے جلد بازی میں عہدیداروں کی جانب سے کئے گئے اراضیات کے سروے پر سوال اٹھایا۔سابق وزیر کے خاندان کی جانب سے دائر کردہ ہنگامی نوعیت کی عرضی کی سماعت جسٹس ونود کمار نے اپنی قیام گاہ پر کی۔
ای راجندر کے خاندان کی طرف سے پرکاش ریڈی ایڈوکیٹ نے دلائل پیش کئے۔انہوں نے عدالت سے کہا کہ سروے کرنے سے پہلے ان کے موکل کو کسی بھی قسم کی نوٹس نہیں دی گئی اوران کی اراضی پر غیر مجاز طورپر عہدیدار داخل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ اراضیات کے سروے کے لئے کلکٹر کی جانب سے داخل کردہ رپورٹ بھی ان کو پیش نہیں کی گئی۔اس موقع پرحکومت کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل پرساد نے دلائل پیش کئے۔
انہوں نے کہاکہ ای راجندر پر سنگین الزامات ہیں جس کی جانچ کی ضرورت ہے۔اس پر جج نے دریافت کیا کہ اراضیات کے سروے کے لئے کیاقبل ازیں نوٹس کی ضرورت نہیں ہے؟راتوں رات کس طرح سروے کا کام مکمل کیاگیا؟عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ اس معاملہ کی شکایت کرنے والوں کے مکان پہنچ کر جانچ کی گئی؟عدالت نے یہ ریمارک کیا کہ عہدیداروں نے کیا کار میں بیٹھ کر رپورٹ تیار کی ہے۔عدالت کے استفسارات کا جواب دیتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اس معاملہ کی مکمل جانچ نہیں کی گئی ہے۔ابتدائی جانچ کا کام ہی کیاگیا ہے۔
ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ کلکٹر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آئندہ کی کارروائی قانون کے مطابق کی جائے۔انہوں نے کہا کہ عرضی گذار کو صرف خدشات ہیں۔



