راجستھان حکومت کاالزام : مرکز نے 3.75 کروڑ ویکسین کے پہلی کھیپ پر 56 کروڑجی ایس ٹی ٹیکس لیا
جے پور:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)راجستھان میں 18سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کی ویکسی نیشن میں مرکزی حکومت کمائی کا کوئی موقع نہیں چھوڑ رہی ہے۔مرکزی حکومت راجستھان میں 18 سال سے 44 سال تک کے لوگوں کے ویکسی نیشن کے لئے سیرم انسٹی ٹیوٹ سے خریدی جارہی ویکسین پر 5فیصد جی ایس ٹی وصول کیا ہے۔ پہلی کھیپ میں 3.75 کروڑ ویکسین کی خوراک کا آرڈر سیرم انسٹی ٹیوٹ کو دیا گیا تھا، مرکزی حکومت ہر خوراک پر 15 روپے کا ٹیکس وصول کررہی ہے۔
پہلی کھیپ کی خوراک پر 56 کروڑ سے زائد کے جی ایس ٹی کی ادائیگی کی گئی ہے ۔اس رقم میں ریاست کو مزید 18لاکھ خوراک مل جاتی۔جب کہ دوسری خوراک کے لئے اتنے ویکسین کی خوراک مزید خریدنی ہوگی ۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ ریاست کو ایک خورایک315 روپے میں دے رہا ہے ،جب کہ اس کی اصل قیمت 300 روپے ہے، 15 روپے جی ایس ٹی ہے۔ 18 سال سے اوپرکے لوگوں کو کو دونوں خوراکوں کو لگانے کے لئے 7.50 کروڑ ویکسین کی ضرورت ہوگی۔
دونوں کھیپوں کو ملا کر مرکزی حکومت 112 کروڑ کا جی ایس ٹی وصول کرے گی۔ اگر مرکزی حکومت جی ایس ٹی میں رعایت دیتی ہے، تو 18سال سے زائد عمر کے لوگوںکیلئے دونوں خورا ک لگانے میں زیادہ سے زیادہ رقم بچتی ۔وہیں مرکزی حکومت نے حالیہ دنوں غیر ملک سے برآمد ہونے والی کورونا ویکسین کو جی ایس ٹی سے مستثنیٰ رکھا ہے۔ ملک میں تیار کی جانے والی ویکسین پراب بھی 5 فیصد جی ایس ٹی لگ رہا ہے۔
متعدد ریاستیں مرکزی حکومت کو خط لکھ رہی ہیں جس میں ملک میں برآمدکی جانے والی کورونا ویکسین پر ٹیکس سے آزاد رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ریاستی وزیر مملکت برائے صحت سبھاش گرگ نے بتایا کہ ہم نے مرکزی حکومت سے مفت ویکسین کا مطالبہ کیا تھا، لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔ ریاستی حکومت ریاست کے 18 سے 44 سال تک کے لوگوں کے ویکسی نیشن پر پورا خرچ کر رہی ہے ، کم سے کم مودی سرکار کو اس پر ٹیکس نہیں لینا چاہئے۔ کسی کو بھی آفت میں کمائی کے مواقع تلاش نہیں کرنے چا ہیے ۔



