راکیش ٹکیت اور 12 دیگر افراد کیخلاف معاملہ درج : ہریانہ پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کاکیا الزام عائد
چنڈی گڑھ:(اردودنیا.اِن)ہریانہ پولیس نے سی آر پی سی کی دفعہ 144 کی مبینہ خلاف ورزی کی صورت میں انبالہ کے ایک گاؤں میں مہاپنچایت کرنے کے الزام میں بھارتیہ کسان یونین کے رہنما راکیش ٹیکت اور 12 دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ٹکیت اور بی جے یو کے کچھ دیگر رہنماؤں نے ہفتہ کے روز انبالہ کینٹ کے قریب دھرالی گاؤں میں کسان مزدور مہا پنچایت سے خطاب کیا تھا۔
واضح ہوکہ پولیس نے جن 12 کسان رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج کیا ہے ان میں رتن مان سنگھ ، بلدیو سنگھ اور جسمیر سینی شامل ہیں۔کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ڈی ایم نے دفعہ 144 نافذ کردیا تھا، جس میں چار سے زیادہ لوگوں کے نقل و حرکت پر پابندی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر چندی سنگھ نے بی سی یو کے رہنماؤں کو دفعہ 144 کے نفاذ کی وجہ سے مہاپنچایت نہ کرنے کا انتباہ کیا تھا،تاہم ایک سینئر پولیس آفیسر نے کہا کہ بی کے یو کے رہنما راضی نہیں ہوئے اور انہوں نے مہاپنچایت کا انعقاد کیا۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی شکایت پر راکیش ٹکیت اور 12 دیگر کسان رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ان تمام کسان رہنماؤں نے دفعہ 144 کے تحت احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ علاوہ ازیں ایف آئی آر میں آئی پی سی کے سیکشن 269 اور 270 کو بھی شامل کیا گیا ہے۔بی جے یو کے قومی ترجمان ٹکیت نے مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک ان کالے رزعی قوانین مسنوخ نہیں کئے جاتے ، اس وقت تک مرکز کے اس نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔
انہوں نے کسانوں کو طویل جدوجہد کے لئے بھی تیار رہنے کو کہا ۔ انہوں نے کرونا بحران سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک بھر کے مختلف اسپتالوں میں میڈیکل آکسیجن کی شدید قلت ہے، لیکن حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہوئی ۔انہوں نے کاشتکاروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس وبا سے بچاؤ کے لئے تمام احتیاطی تدابیراختیارکریں



