تلنگانہ ملک میں کہیں نہ دیکھی اور سنی جانے والے ترقیا تی پروگراموں کی عمل آوری کے ذریعہ مثال ہے،منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیر مین بی.ونود

جگتیال : (اردودنیا.اِن)منصوبہ بندی کمیشن کے نائب چیر مین بی.ونودنے کہا کہ نئے خیالات کے ذریعہ عوام کی خدمات کو ہی بنیادی مقصد کےتحت ریاستی وزیر اعلٰی نے مختلف ترقیاتی کاموں کو متعارف کرکے مثال کا قیام عمل میں لاکر ملک میں کہیں نہ دیکھی اور سنی جانے والی ترقی کے ذریعہ ریاست تلنگانہ ملک ہی کیلئے مثال بن چکی ہے۔

انھوں نے ضلع جگتیال کے تعلقہ ملیال میں رعیتو ویدیکا عمارتوں کے افتتاحی پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ دیگر ریاستوں اور ممالک سے مقابلہ کرنے پر ریاست تلنگانہ میں زیر عمل فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کی کہیں بھی عمل آوری نہیں کی جارہی ہے۔

تا حال کہیں نہ پائے جانے والے مثالی طور پر ملازمین ، تاجروں ،اور معاشی طور مستحکم افراد کیلئے ہی مختص زندگی بیمہ اسکیم کو کسانوں کیلئے بھی متعارف کیا گیا ہے۔جو کسانوں کے خاندانوں کیلئے اعتماد کی بحالی،اور انکے وقار میں اضافہ کا باعث ہے۔ہر سال دریاؤں کا پانی سمندروں میں جا مل رہا تھا جسکو ذخیرہ کرتے ہوئے کالیشورم پروجکٹ،اور دیگر پروجکٹوں کی تعمیر عمل میں لاکر 20 تا 30 لاکھ ایکڑ اراضی سے ایک کروڑ 20 لاکھ ایکڑ اراضی کوریاستی وزیر اعلٰی کی جانب سے قابل کاشت بنایا گیا۔

درخواست کے ادخال کے ذریعہ عاجزی کرنے کے دور کو بدل کر راست طور پر اسکیمات کو مستحقین تک پہنچانے میں تلنگانہ حکومت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔درمیانی افراد اور دلالوں سے چھٹکارہ دلاتے ہوئے کسانوں میں معاشی استحکام کویقینی بنانے کیلئے رعیتو بندھو اسکیم کو متعارف کیا گیاہے۔رعیتو بندھو، کلیانہ لکشمی ، شادی مبارک اور دیگر اسکیما کو راست طور پر مستحقین کے اکاؤنٹ میں جمع کروا یا جارہا ہے۔ 24 گھنٹے برقی کی فراہمی کو یقینی بنا یا گیا ہے۔

کسانوں کی ترقی اور خوشحالی کو بنیا دی مقصد بناکر انکی فلاح کے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ریاست کو برقی کی خرید کے مرحلہ سے نکال کر برقی کو فروخت کرنے کے قابل بنا یا گیا۔

رعیتو ویدیکا عمارتوں میں مستقبل میں انٹرنیٹ ، کمپیوٹر اور اسکرین جیسی سہولیات سے معمور کیا جائیگا۔زرعی اراضی نہ ہونے والے کسانوں کیلئے کام کی فراہمی کے ذریعہ انوکھے پروگرام کو متعارف کیا گیا ہے۔مقامی عوامی نمائندوں کی جانب سے نمائندگی کرنے پر انھوں نے مختلف زیر التؤاء ترقیاتی کاموں کی عاجلانہ تکمیل کا تیقن دیا ہے۔

اس موقع پر رکن اسمبلی بسوا راجو ساریا نے کہا کہ ماضی کی حکومتیں کسی بھی قسم کی ترقیاتی سرگرمیوں کو انجام نہیں دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ جیت اور ہار کو بنیا د نہ بناتے ہوئے عوام کی فلاح اور مسائل کو بنیادی اہمیت دیتے ہوئے ونود کمار کی جانب سے کوشش کی جارہی ہے۔ماضی میں انکی حکومت کے دور ہی میں بھوپال پلی کیلئے500 میگا واٹ برقی کے مرکز کا قیام عمل میں لایا گیا ۔

اس موقع پر ضلع پریشد چیر پرسن محترمہ دوا وسنتا نے کہا کہ قومی سطح پر کہیں نہ پائ ے جانے والے ترقیاتی اور فلاحی پروگراموںکو ریاستی وزیر اعلٰی کی حکمت کے مطابق عمل آوری کی ارہی ہے۔ماضی کی حکومتوں میں ریاست تلنگانہ کیلئے کسی بھی قسم کی ترقی کا بیڑہ نہیں اٹھا یا گیا ۔

ضلع کلکٹر جی روی نے اس موقع پر کہا کہ تمام کسانوں کو ایک ہی جمع کرتے ہوئے ان کے آپسی مسائل اور انکے حل جیسے کونسی فصل کی کاشت کی جائے،بازار کاری،نفع و نقصان،درپیش ہونے والے مسائل ، سے متعلق بحث و مباحثہ کیلئے ریاستی وزیر اعلٰی نے رعیتو ویدیکا عمارتوں کی تعمیر کو قطیعت دی۔
محکمہ زراعت، ای جی ایس کی زیر نگرانی ضلع میں5 ہزار ایکڑ اراجی میں 71 کلسٹروں کے ذریعہ ہر رعیتو ویدیکا کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے 22 لاکھ روپئے مالیہ کی منظوری عمل میں لائی گئی۔اس موقع پر ضلع کلکٹر نے ضلع میں رعیتو ویدیکا عمارتوں کی دسہرہ تقریب سے قبل تکمیل کرنے والے عہدیداروں کو مبارکباد پیش کی۔اور محکمہ زراعت کے عہدداروں کو رعیتو ویدیکا عمارتوں پر خصوصی توجہ فراہم کرنے کی ہدایت دی۔اور کسانوں سے اس پلیٹ فارم سے مستفید ہونے کی اپیل کی۔
اس موقع پر رکن اسمبلی چوپا دنڈی سنکے رونی شنکر نے کہا کہ کسانوں کو ایک ہی جمع ہوکر نفع و نقصان سے متعلق مباحثہ کرنے اور اور دیگر مسائل پر توجہ فراہم کرنے کیلئے قومی سطح پر کہیں نہ پائے جان والی اس رعیتو ویدیکا عمارتوں کی تعمیر کے اقدام کو قطیعت دی۔جسکو انتہائی ثمر آور ہونے کی انھوں نےامید ظاہر کی۔
اس رعیتو ویدیکا کیلئے زرعی عہدیدار سے ایکسٹینشن آفیسر، کسانوں کی آپسی تعاؤن کی کمیٹی کے مؤاضعات کے صدر،تعلقہ کے کنوینر ی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے۔ریاستی وزیر اعلٰی بھی کسانوں سے راست طور پربات چیت کرنے کیلئے ان عمارتوں کو تکنیکی آلات سے سرفراز کیا جائیگا۔سیلابی نہر کے پانی کو بیکار ضائع نہ ہونے دیئے بغیر اس پانی کو روکتے ہوئے سمددر میں نہ ملے بغیر ریگستان میں تبدیل نہ ہونے کیلئے ریاست تلنگانہ کو مختلف پروجکٹوں کی تعمیر کے ذریعہ پانی سے سیراب کیا گیاہے۔
صرف چند ہ دنوں میں حلقہ میں گایتری پمپ ہاؤس،نارائن پور ریزر وائیر ،پوتارام ریزروائیر کے ساتھ ساتھ سمندر کے مماثل مڈ مانیر کی تعمیر کی گئی ہے۔جس کے تحت 365 دن پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے خوشحال ریاست مین تلگانہ کو تبدیل کیا گیا ہے۔غریب اور مستحق خاندونکی لڑکیوں کی شادی کیلئے کلیانہ لکشمی سادی مبارک جیسی مثالی اسکیموں کو متعارف کیا گیا ہے۔
کسانوں کو فرض میں مبتلا نہ ہونے کیلئے ، فصلوں کی کاشت کیلئے رعیتو بندھو اسکیم کو متعارف کرکے 5 ہزار روپئے مالیہ عطا کیا جارہا ہے۔اور کسانون کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے 5 لاکھ بیمہ عطا کیا جا رہا ہے۔ کسی وقت نقل مکانی کئے ہوئے خاندان بھی حکومت کی فلاحی اسکیمات سے متعارف ہو کر دوبارہ اسی مقام کو واپس آرہے ہیں ۔



