قومی خبریں

زیرالتواء قیدی کوبھی جینے کاحق: سپریم کورٹ کاکپن پرتبصرہ

نئی دہلی:(اردودنیا.اِن) سپریم کورٹ نے کہا کہ ایک زیرالتوا قیدی کو بھی جینے کا حق ہے اور اس تبصرے کے ساتھ عدالت عظمی نے اتر پردیش کی حکومت کو مختلف بیماریوں میں مبتلا صدیق کپن کو بہتر علاج کیلئے دہلی کے ایک اسپتال میں منتقل کرنے کی ہدایت دی۔کپپن کو گذشتہ سال ہاتھرس کے راستے میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں ایک دلت خاتون کی 14 ستمبر 2020 کو ایک مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد موت ہوگئی تھی۔ چیف جسٹس این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اے ایس بوپنا کی تین رکنی بنچ نے کپپن کوراحت دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو کیرالہ کے صحافی کو علاج کرانے کی ہدایت کی۔

بنچ نے بدھ کی شب عدالتی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردہ اس حکم میں کہاکہ ہمیں یقین ہے کہ گرفتار افراد کی غیر مستحکم صحت کے پیش نظر انہیں مناسب اور موثر طبی امداد فراہم کرکے ان کی صحت سے متعلق تمام خدشات کو ختم کرنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ یہی انصاف ہوگا کہ صدیق کپن کو رام منوہر لوہیا اسپتال یا آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) یا دہلی کے کسی بھی دوسرے سرکاری اسپتال میں مناسب علاج کے لئے داخل کرایا جائے۔ اس سلسلے میں جلد از جلد ضروری کارروائی کی جانی چاہئے۔

عدالت عظمیٰ نے کہاکہ علاج کے بعد کپن کو متھرا کی جیل بھیج دیا جائے گا۔پھلی عدالت نے جرنلسٹ یونین آف کیرالہ (کے یو ڈبلیو جے) کی طرف سے دائر درخواست کا نمٹاراکرتے ہوئے کپن کویہ راحت دی کہ وہ گرفتاری کے خلاف یا کسی اور ریلیف کے لئے کسی بھی جگہ چیلنج کرسکتے ہیں۔اترپردیش حکومت کی جانب سے پیش سالسیٹر جنرل تشارمہتا نے عدالت عظمیٰ کی اس تجویز کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح کے بہت سے ملزمان کا سرکاری اسپتالوں میں علاج ہورہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button