
سروے میں ہوا انکشاف : سیرو پازیٹو لوگوں میں اینٹی باڈیز کی کمی کی وجہ سے کرونا نے پھر پکڑی رفتار
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کونسل کے ذریعہ کرائے گئے ایک سروے کے مطابق پچھلے سال ستمبر میں کووڈ- 19 کے کیسزمیں بڑے پیمانے پر اضافے کی وجہ سیرو پازیٹولوگوں میں مؤثر اینٹی باڈیز کی کمی ہے۔ ممکنہ طور پر اس سال مارچ میں انفیکشن کے کیسزمیں اضافہ پھر دیکھا گیا ہے۔ سی ایس آئی آر نے 174 ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقہ میں 404 سے زیادہ لیبارٹریوں میں کام کرنے والے 10427 افراد اور ان کے ا ہل خانہ کا ایک معائنہ کیا۔
ان 10427 افراد کی اوسط سیرو پازیٹو10.14 فیصد تھی۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ پانچ چھ ماہ کے بعداینٹی باڈیز کو غیر جانبدار کرنے میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے ، جس کی وجہ سے لوگوں کے دوبارہ انفیکشن ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔اس سروے کے سر فہرست مرتبین میں سے ایک شانتو سین گپتا نے بتایا کہ ستمبر 2020 میں ملک میں کرونا وائرس کے انفیکشن کے کیسز شباب پر پہنچ گئے، اکتوبر سے ملک بھر میں نئے کیسز سامنے آنے لگے۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ ہمارے اعداد و شمار سے اخذ ہوتا ہے کہ اینٹی این سی، اینٹی باڈیز کسی شخص کی لمبی مدت سے انفیکشن میں ہونے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ لیکن سروے میں تقریباً 20 فیصد سیرو پازیٹو افراد میں ایسی اینٹی باڈیز ملی ہے، جو 5-6 ماہ کے بعد کم وقت کیلئے فعال ہوجاتی ہیں۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ ہمارا قیاس ہے کہ اس کا تعلق مارچ 2021 میں کرونا وائرس پھیلنے سے ممکنہ طور پر ہوسکتا ہے۔واضح ہو کہ متعدی بیماریوں کی نگرانی کے لئے ’سیرو ‘سروے کیا جاتا ہے۔ اسے اینٹی باڈیز سروے بھی کہا جاتا ہے۔



