قومی خبریں

سپریم کورٹ سے مختار انصاری کو کوئی راحت نہیں

 سپریم کورٹ سے مختار انصاری کو کوئی راحت نہیں
مختار انصاری

عدالت کاپنجاب حکومت کو حکم ،2 ہفتوں میں یوپی کریں منتقلی

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)ایم ایل اے مختار انصاری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ایک بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے انصاری کو پنجاب سے اتر پردیش جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی اس دلیل کو مسترد کردیا کہ یوپی حکومت پی آئی ایل داخل نہیں کرسکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ باندہ کے جیل سپرنٹنڈنٹ انصاری کو طبی سہولیات فراہم کریں گے۔ واضح رہے کہ 4 مارچ کو سپریم کورٹ نے یوپی حکومت کی جانب سے یوپی باہوبلی کے ایم ایل اے مختار انصاری کو پنجاب کے ضلع روپڑ سے یوپی منتقل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔ عدالت کو اپنے فیصلے میں یہ طے کرنا تھا کہ مختار انصاری کو پنجاب کے ضلع روپڑ سے یوپی منتقل کرنا ہے یا نہیں۔

دراصل مختار انصاری نے یوپی میں تبادلے کے بارے میں کہا ہے کہ یوپی میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔حکومت پنجاب نے آج عدالت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پیش وکیل دوے نے پی جی آئی چنڈی گڑھ جو مرکزی حکومت کے ماتحت آتے ہیں انہوں نے مختار کی خراب طبیعت سے متعلق متعدد بار رپورٹس دے چکے ہیں۔

اس کے کافی ثبوت موجود ہیں۔ پنجاب کے لئے وہ ایک ملزم ہیں اور کچھ نہیں ، جبکہ ایس جی تشار مہتا نے جو الزامات لگائے وہ سراسر غلط ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے ذریعہ درج کی جانے والی ایف آئی آر درست ہے۔ مختار پنجاب حکومت کے لئے مجرم کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یوپی سرکار نے مختار انصاری کے بارے میں جو باتیں کہیں وہ بے بنیاد ہیں۔ مختار انصاری پنجاب حکومت کے بھی مجرم ہیں ، لیکن یوپی حکومت اس معاملے میں پنجاب حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کررہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button