
مسلم فریق سپریم کورٹ پہونچا،عدالت سے درخواست مستردکرنے کی اپیل
نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)مذہبی مقامات پر ایکٹ کے حوالے سے مسلم فریق بھی سپریم کورٹ پہنچ گیاہے۔بابری مسجدمعاملے پرفیصلہ ہونے کے بعدایسالگاتھاکہ تنازعہ ختم ہوجائے گالیکن اس کے بعدمتھراکامعاملہ چھیڑدیاگیا،لیکن اس کیس میں دوسرے فریق کے پاس بڑی مشکل مذہبی مقامات ایکٹ تھاجس کی روسے آزادی کے بعدجس عبادت گاہ کی جوحیثیت رہی ہے وہی رکھی جائے گی۔
صرف بابری مسجدکا استثنیٰ تھا۔چنانچہ اس ایکٹ کی بنیادپرکورٹ میں آگے کسی مسجد،عیدگاہ پربات ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔اس لیے ان عناصرنے اسی ایکٹ کوچیلنج کردیاہے جس سے ہرروز نیا بکھیڑا کھڑا کیاجاسکے گااوردوسری عبادت گاہوں۔مسجدوں اورعیدگاہوں کونشانہ بنایاجائے گا۔ سپریم کورٹ اس قانون کی جانچ کرے گا جو متھراا اور کاشی جیسے مندروں کے لیے عدالت کے دروازے بند کردیتا ہے۔
اب لکھنؤکی مسجدکے متولی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عبادت کی جگہ کو چیلنج کرنے والی درخواست کو خارج کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملک کے سیکولر ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے اس قانون کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ واصف حسن نے ایک درخواست دائر کی ہے اور اس معاملے میں خود کو فریق بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ لکھنؤ کی سول کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا ہے ، جس میں اس مسجد کو ایک قدیم مندر بتایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا براہ راست اثر اس کیس پر پڑے گا،لہٰذااس کے معاملے پر سماعت ہونی چاہیے۔ واصف حسن نے کہا ہے کہ سیکولرازم ملک کی ایک بڑی بنیاد تھی جسے 15 اگست 1947 کو آزاد کرایا گیا تھا۔
اس قانون کے پیچھے پارلیمنٹ کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں میں مذہبی مقامات کے بارے میں کوئی تنازعہ نہیں ہونا چاہیے۔درخواست کے مطابق اس مندر کے منہدم ہونے کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ رام مندربابری مسجد تنازعہ میں بھی عدالت عظمیٰ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ مسجدہندومذہبی ڈھانچے کی چوٹی پر تعمیر نہیںکی گئی تھی ،
لیکن اس بات کاکوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس مندر کو بنانے کے لیے اسے منہدم کیا گیا تھا۔ ہر مذہبی مقام کی موجودہ حیثیت کو برقرار رکھنا ملک کے بڑے مفادمیں ہے۔درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ سپریم کورٹ میں دائر کیس کے پیچھے سیاسی وجہ ہے۔ پارلیمنٹ کا بنایا ہوا قانون اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 1995 کے اسماعیل فاروقی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ایودھیا میں مرکز کے ذریعہ کی گئی اراضی کے حصول کا جواز پیش کیا تھا۔ اگر سپریم کورٹ میں قانون کے خلاف درخواست کو بجا طور پر قرار دیا گیا تو 1993 میں ایودھیا میں ہونے والی اراضی کا حصول بھی غیر قانونی ہوگا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی پراپرٹی پر دعوے کے لیے دیوانی مقدمہ دائر کرنے کے لیے ایک وقت کی حد ہے۔ اتنے سالوں کے بعد ایسے معاملات کی اجازت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے ایکٹ 1991 کی توثیق پر اتفاق کیا ہے۔ 12 مارچ کو عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ وکیل اور بی جے پی رہنما اشوانی اپادھیائے نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں مذہبی مقامات ایکٹ 1991 کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیاگیاہے اور اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذہبی مقامات ایکٹ 1991 کی دفعہ 2 ، 3 اور 4 کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔درخواست میں آشوینی اپادھیائے نے کہاہے کہ مرکزی حکومت کو ایسا قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دستور میں یہ ایک ریاستی مضمون ہے اوریہ آئین کے ساتویں شیڈول کی دوسری فہرست میں شامل ہے ۔ اسی طرح عوامی آرڈر بھی ریاست کا معاملہ ہے۔ لہٰذا مرکز نے ایسا قانون بنا کر دائرئہ اختیار کی خلاف ورزی کی ہے۔



