سی آر پی ایف ’کوبرا‘ کمانڈو بٹالین میں خواتین اہلکاروں کو شامل کرنے پرکررہا ہے غور
نئی دہلی،21جنوری(اردودنیا.ان)سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) جنگل کی جنگ میں مہارت رکھنے والی اپنی ’کوبرا‘ کمانڈو فورس میں خواتین اہلکاروں کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ جمعرات کو سی آر پی ایف کے سربراہ اے پی مہیشوری نے یہ معلومات دی۔ انٹیلی جنس انفارمیشن کی بنیادپر مبنی جنگلاتی جنگجوانہ کاروائیوں کیلئے سی آر پی ایف کے تحت 2009 میں ’کمانڈو بٹالین فار ریزولوٹ ایکشن‘ (کوبرا) کی 10 اکائیاں تشکیل دی گئی تھی۔ مہیشوری نے یہاں پریس کانفرنس میں بتایاکہ ہم ’کوبرا‘ میں خواتین کو شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
کوبرا کی زیادہ تر ٹیمیں نکسل سے متاثرہ ریاستوں میں تعینات ہیں اور کچھ ٹیمیں بغاوت کی کاروائیوں کے لئے شمال مشرقی ریاستوں میں تعینات ہیں۔ کوبرا یونٹس میں شامل کئے جانے والے فوجیوں کو ذہنی اور جسمانی سطح پر سخت معیار کو پورا کرنا ہوتاہے۔
سی آر پی ایف کے پاس 1986 سے خواتین اہلکار موجود ہیں، جب اس کی پہلی خاتون بٹالین تشکیل دی گئی تھی۔ فورس کے پاس اس طرح کی 6 یونٹ ہیں۔ اس فورس کے پاس تقریبا 3.25 لاکھ اہلکار ہیں اور یہ ملک کا سب سے بڑا نیم فوجی دستہ ہے۔ اس کی تشکیل داخلی سلامتی کے مقصد سے کی گئی تھی۔




