
ممبئی کے کرونا احوال: ’ویک اینڈ ‘پر سڑکیں سنسان ، مقامی ٹرینیں اور بسیں میں مسافرین ندارد
ممبئی :(اردودنیا.اِن)جمعہ کے روز سے ہی مہاراشٹر میں دو روزہ سخت لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔ یہ لاک ڈاؤن پیر کی صبح سات بجے تک نافذرہے گا۔ لاک ڈاؤن نے ممبئی کی 24 گھنٹے چلنے والی رفتارکو موقوف کردیا ہے ۔ سڑکیں سنسان ہیں اور ساحل سمندر سیاحوں سے خالی ہے۔پورے شہر میں صرف پولیس اہلکار نظر آرہے ہیں۔لاک ڈاؤن کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ یعنی ٹرین ،بس، آٹو ، کالے- پیلے رنگ کی ٹیکسی اور ایس ٹی بسیں کی خدمات بہرحال جاری ہیں، تاہم ان میں اِکا دُّکا مسافر ہی نظر آرہا ہے ۔
ممبئی کی لائف لائن کہی جانی ’ لوکل ٹرین‘ میں بھی مسافر بہت کم نظر آرہے ہیں۔ انتہائی اہم خدمات سے وابستہ افراد ہی سفر کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، جبکہ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینل اسٹیشن پر بھی سناٹا ہے ، جب کہ عام دنوں میں یہاں بہت ہی بھیڑ ہوا کرتی تھی ۔حکومت کی سختی اور کرونا نامی غیر مرئی ’وائرس‘ کے خوف کی وجہ سے ممبئی کے بھیڑ والے علاقے دادر ، ماٹونگا ، اندھیری ، گرانٹ روڈ ، ورلی ، کرلا ، بھنڈی بازار ، گھاٹ کو پر اور مسجد بندر جیسے علاقہ جات کی سڑکیں سنسان ہیں۔
بغیر کسی ضروری کام کے باہر جانے والوں کے ساتھ سختی بھی برتی جارہی ہے ، ان کا چالان بھی کاٹا جارہا ہے ، اور کئی جگہوں پراُن سے کان پکڑ کر’ اٹھک بیٹھک ‘بھی لگوائی جارہی ہے ۔واضح ہوکہ لاک ڈاؤن کے باوجود سڑکیں بند نہیں کی گئی ہیں ، پولیس کی گاڑیاں اور ایمبولنس ہفتے کی صبح ممبئی کے ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے اور ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے پر دوڑتی ہوئی نظر آئیں۔
عام دنوں میں یہاں گاڑیوں کی لمبی قطار نظر آتی ہیں ۔بسااوقات یہاں 2 سے 5 گھنٹے تک کا جام بھی لگ جاتا ہے۔وہیں ہر دن کی طرح ہفتہ کی صبح بھی دادر کی پھول اور سبزی منڈی میں بھیڑ دیکھی گئی ، تاہم بعد میں پولیس اہلکار نے غیر ضروری طور پر گھومنے والوں کو گھر واپس بھیج دیا اور سبزی منڈی کے آس پاس کھلی دکانیں بھی بند کروادیں۔
مہاراشٹر کا دارالحکومت ممبئی پہلے ہی ’کرونا ہاٹ سپاٹ‘ بنا ہوا ہے،یہاں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے 9200 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں ، اس دوران 35 افراد کی موت بھی ہوچکی ہے ۔ ریاستوں میں کیسوں کی کل تعداد 500898 ہے اور ایکٹیو کیسز کی کل تعداد 90333 ہے۔



