
عمر قید کے سزا یافتہ سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو فی الحال سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں
عمر قید کے سزا یافتہ سابق آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو فی الحال سپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں سماعت ملتوی

نئی دہلی : (اردونیا.اِن) سابق آئی پی ایس آفیسر سنجیو بھٹ کو فی الحال کوئی راحت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے بھٹ کی عمر قید کی سزا کو6 ہفتوں کے لئے معطل کرنے کی درخواست موخر کردی۔ عدالت نے کہا کہ اس پٹیشن پر سماعت بھٹ اس نظر ثانی پٹیشن کے فیصلے کے بعد ہوگی جس میں انہوں نے 2019 کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کیا تھا۔
اس فیصلے میں عدالت نے ٹرائل کوجلد مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔در اصل بھٹ کے وکیل کپل سبل نے تجویز پیش کی کہ عدالت کے لئے بہتر ہے کہ وہ پہلے جون 2019 کے حکم کے خلاف زیر التواء نظر ثانی کی درخواست پر غور کرے ، جس نے ٹرائل میں اضافی گواہوں کی جانچ پڑتال کے لئے سابق آئی پی ایس آفیسر کی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔سپریم کورٹ نے سابق آئی پی ایس آفیسر سنجیو بھٹ کے 1990 میں حراست میں موت کے معاملے میں ان کی سزاکو معطل کرنے کے لیے دائر درخواست پر حکم دیاہے ۔
سنجیو بھٹ کو جام نگر کی سیشن عدالت نے نومبر 2019 میں جام جودھ پور کے رہائشی پربھوداس وشنانی کی موت کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹنے کی ہدایت دی تھی۔2011 میں 2002 کے فسادات میں اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی پر الزام لگانے والے افسر نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا تھا اور وہ فی الحال پالن پور جیل میں بند ہیں۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ان کی سزا معطل کرنے کے گجرات ہائی کورٹ کے انکار کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اکتوبر 2019 میں گجرات ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہاتھا کہ انہیں عدالتوں کا احترام کم کیا ہے اور انہوں نے جان بوجھ کر عدالتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔



