غالب کے 223ویں یوم پیدائش کے موقع پر غالب اکیڈمی میں جلسہ
مرزا اسد اللہ خاںکے دوسو تیئسویں یوم پیدائش کے موقع پر حسب روایت کووڈ19کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے ساتھ غالب اکیڈمی نئی دہلی میں ایک جلسے کا اہتمام کیا گیا۔جلسے سے پہلے مزار غالب پر گل پوشی اور فاتحہ خوانی کی گئی۔جلسے کی صدارت ڈاکٹر گلشن رائے کنول نے کی اس موقع پر پروفیسر شریف حسین قاسمی نے خصوصی لیکچر دیا۔انھوں نے کہا کہ غالب کے کلام میں سب سے زیادہ حسب حال اشعار مل جاتے ہیں۔ان کے اشعار واقعات اور حادثات سے مطابقت رکھتے ہیں۔اس موقع پر پروفیسر قاسمی نے شمس الرحمن فاروقی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کتاب تفہیم غالب غالب کے شعری محاسن اور امتیازات کو سمجھنے کے لیے معرکتہ الآرا کتاب ہے۔ایک سو پچاس اشعار کی شرح فاروقی صاحب نے بیس برسوں میں مکمل کی۔
اس موقع پر عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئر مین اے رحمان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غالب کو ہمیشگی حاصل ہے۔ان کا نام قیامت تک رہے گا۔ یہ تحقیق ہے کہ دنیا میں شیکسپئر کے بعد غالب پر سب سے زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں اور ان کے کلام کے تراجم بھی سب سے زیادہ ہوئے ہیں۔
اس موقع پر بنارس کے سوامی دی اک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ غالب دین اور دنیا کے سنگم بن جاتے ہیں۔ سناتن دھرم کی روایت ہے جہاں دوندیاں ملتی ہیں اسے تیرتھ ماناجاتا ہے۔غالب شاعری کے تیرتھ تھے۔ ان کی زندگی ایک سنگم ہے۔ غالب اپنی تعریف کرنا بھی جانتے ہیں اور دوسروں پر طنز بھی۔ ان کے شعر سیاست پر بھی فٹ بیٹھتے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر گلشن رائے کنول نے اپنی صدارتی تقریر میںکہا کہ غالب دانشوروں کے لیے تو ہیں ہی لیکن ان کا تعلق عوام سے بھی عام آدمی کے دلوں کی باتیں بھی غالب کے دیوان میں مل جاتی ہیں۔شمس الرحمان فاروقی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی روش پر چلنے و الے سب سے الگ نقاد تھے بہت محنتی اور ذہین تھے ان کی ذاتی ذخیرے میں بارہ ہزار کتابیں تھیں۔میر اور غالب دونوں پر ان کی گہری نظر تھی۔ڈاکٹر عقیل احمد نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ غالب کے یوم پیدائش کا جلسہ غالب اکیڈمی بڑے تزک واحتشام سے کرتی ہے لیکن کووڈ19کی وجہ سے روایتی طور پر جلسہ ہو جانا ہی بہت ہے اور اس میں شرکت کرنے والے مبارکباد کے مستحق ہیں۔اس موقع پر موہن پرکاش، متین امروہوی ، ظہیر برنی، نسیم عباسی، خواجہ سید محمد نظامی، بابو رام ورما،نگار بانو ناز، چشمہ فاروقی، سیدھر ایڈوکیٹ موجود تھے۔ کووڈ کے دوران رخصت ہونے والے ادیبوں شاعروں کے اظہار غم کے لیے دو منٹ کی خاموشی اختیار کرکے جلسہ ختم ہوا۔




