
رافیل طیارہ معاہدے میں بدعنوانی کا خدشہ، کانگریس کی تنقید
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)فرانسیسی نیوز ویب سائٹ میڈیا پارٹ نے رافیل معاہدہ میں بدعنوانی کے خدشات کے تئیںسوالات اٹھائے ہیں۔ فرانسیسی اینٹی کرپشن ایجنسی اے ایف اے کی تحقیقاتی رپورٹ کے ذریعہ شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق دیسو ایوی ایشن نے کچھ ادائیگی کی ہے۔ کمپنی کے 2017 اکاؤنٹس کے آڈٹ میں کلائنٹ تحفہ کے نام پر 5 لاکھ 8 ہزار 925 یورو (4.39 کروڑ روپئے) کے اخراجات ظاہر کئے ہیں ،لیکن اتنی بڑی رقم کے بارے میں کوئی ٹھوس وضاحت نہیں دی گئی۔
ماڈل بنانے والی کمپنی کا مارچ 2017 کا صرف ایک بل دستیاب ہی پیش کیا جاسکا ہے ۔ اے ایف اے کے ذریعہ جب یہ پوچھا گیا تو دیسو ایوی ایشن نے بتایا کہ اس نے رافیل طیارہ کے 50 ماڈل ایک ہندوستانی کمپنی سے بنائے ہیں۔ ان ماڈلز کے لئے 20 ہزار یورو (17 لاکھ روپے) فی نگ ا ادا کیا گیا،
تاہم اس ماڈل کو کہاں اور کیسے استعمال کیا گیا اس کے بارے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ میڈیا پارٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماڈل بنانے کا کام مبینہ طور پر ہندوستانی کمپنی Defsys Solutionsکو دیا گیا تھا،یہ کمپنی ہندوستان میں دیسو کی ذیلی کنٹریکٹر کمپنی ہے۔واضح ہو کہ اس کی ملکیت رکھنے والی کمپنی سے وابستہ رکھنے والے سوشین گپتا دفاعی سودوں میں بچولیا رہے ہیں ،
اور دیسو کے ایجنٹ بھی رہ چکے ہیں ۔اگسٹا ویسٹ لینڈ ہیلی کاپٹر خریداری گھوٹالہ کی تحقیقات کے سلسلے میں سوشین گپتا کو ای ڈی نے2019 میں بھی گرفتار کیا تھا۔ میڈیاپارٹ کے مطابق سوشین گپتا ہی تھے، جنہوں نے مارچ 2017 میں دیسو ایوی ایشن کو رافیل ماڈل بنانے کا بل دیا تھا۔فرانسیسی ویب سائٹ کے اس دعوے کے بعدرافیل دفاعی سودوں کا جن ایک بار پھر سامنے آسکتا ہے،
پچھلے لوک سبھا انتخابات کے دوران کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے رافیل معاہدہ میں بدعنوانی کو ایک بڑا مسئلہ بنایا تھا۔ پانچ ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخابات کے تیسرے مرحلے کے لئے پولنگ 5 اپریل کو ہونا ہے۔ بظاہر کانگریس کو مرکزی حکومت پر حملہ کرنے کے لئے ایک اور تیر مل گیا ہے۔اس معاملے میں کانگریس نے مودی سرکار کو شدید نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے بتایا کہ کیا اس سارے لین دین کوکلائنٹ گفٹ کہا جاسکتا ہے ؟۔
اگر یہ ماڈل بنانے کے لئے پیسہ تھا تو پھر اسے تحفہ کیوں کہا گیا؟ کیا یہ کسی پوشیدہ لین دین کا حصہ تھا؟ کمپنی جسے یہ رقم دی گئی تھی ،یہ کمپنی ماڈل نہیں بناتی ہے۔ 60 ہزار کروڑ روپے کے رافیل دفاعی معاہدے سے متعلق حقیقت سامنے آگئی ہے، یہ میںنہیں کہہ رہا ہے کہ فرانسیسی ایجنسی کہہ رہی ہے ۔



