نئی دہلی:(ایجنسیز)مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہاہے کہ ہندستان کازرعی نظام مسلسل ترقی کررہاہے ۔کسان کوان کی فصل کوہرآفت سے بچانے کیلئے بیمہ اسکیم نافذکی گئی ہے ۔جس کے تحت کسانوں کوکسی بھی طرح کاخسارہ ہونے پراس کاتدارک کیاجاتا ہے۔
نریندرسنگھ تومرنے کہاکہ ہندستان جیسے زرعی ملک میں مانسون کی بے قاعدگی سے فصل کونقصان ہونے پراس کی بھرپائی کیلئے کسانوں کومناسب معاوضے دیئے جاتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ2014میں ہماری حکومت کے وجود میں آنے کے بعد کسانوں کواعلیٰ ترجیح دیتے ہوئے ان کی فصل کے نقصان کی حفاظت کیلئے اور اس وقت کی فصل بیمہ منصوبوں کی بدنظمیوں میں اصلاح کرکے کسان کے مفاد میں ــ’’ون نیشن‘‘۔ون اسکیم‘‘ کی شکل میں پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا جسے پی ایم ایف بی وائی کہاجاتا ہے،
کو13جنوری2016کو قانونی شکل دیاگیا۔انہوں نے کہاکہ عوام پسندوزیراعظم نریندرمودی کی قیادت میں منصوبہ کواپریل2016میں نافذ کیاگیا۔ ہندوستان کے کسانوں کویکساں مینی مم پریمیم کامنافع دیتے ہوئے شفافیت تکنیک کاوسیع استعمال ٹائم بائونڈ شکایت دور کرنے کاسسٹم وغیرہ منصوبوں کونافذ کیاگیا۔
تومر نے کہاکہ مذکورہ جتنے منصوبوں کاذکرکیاگیا ہے وہ نہ صرف نافذ ہوئے ہیں بلکہ نافذ العمل میں ہیں۔وزیراعظم فصل بیمہ یوجنا میں کسانوں کافائدہ شامل ہے ۔ کسانوں کے فائدے کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے ہرمسئلے کے حل کیلئے حکومت سرگرداں ہے ۔ حکومت ہرگز نہیں چاہتی کہ کسانوں کو نقصان ہو۔ اس لئے کسانوں کے حق میں متنبہ منصوبے نافذ ہوئے ہیں ۔کسانوں کوفصل نقصان کے تناسب میں ان کے دعوئوں کویقینی بنانے کیلئے بیمہ شدہ رقم کو فصل پیداوار کی قیمت کے برابرکیاگیاہے ۔ مرکزی وزیر زراعت نے کہاکہ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا میں شفاف لانے کیلئے2017میں آدھار نمبر کے توسط سے رجسٹریشن لازمی قرار دیاگیا۔جس سے کسانوں کوبراہ راست ان کے بینک اکائونٹ میں ادائیگی کی رقم پہنچ رہی ہے ۔
خریف 2019تک کسانوں کو پریمیم کی شکل میں 16000کروڑروپئے کی ادائیگی ملی۔نریندرسنگھ تومر نے مرکزی منصوبوں کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ کوویڈ 19 کے دوران لاک ڈائو ن کے تین مہینوں میں تقریباً70لاکھ کسانوں کے 8741کروڑ روپئے سے زیادہ دعوئوں کی ادائیگی براہ راست ان کے بینک اکائونٹ سے کیاگیا ہے ۔




