فضائل و مناقب سیدہ فاطمہؓ و سیدنا صدیق اکبرؓسے مولانا محمد زعیم الدین حسامی کا خطاب۔
فضائل و مناقب سیدہ فاطمہؓ و سیدنا صدیق اکبرؓسے مولانا محمد زعیم الدین حسامی کا خطاب۔
حضرت نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایاہیکہ اے لوگو! تم میں میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی طرح ہے ‘ جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جس نے اس کو چھوڑ دیا وہ ہلاک ہو گیا ۔اورارشاد فرمایاہیکہ میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں تم اُن میں سے جس کسی کی بھی اقتدا کرو گے ہدایت پا ؤگے اور ارشاد فرمایا اُس مسلمان کو (دوزخ کی )آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھ کو دیکھا یا مجھکو دیکھنے والے( یعنی صحابہ کرامؓ) کو دیکھا (ترمذی)
ان خیالات کا اظہار معتمد سراج العلماء اکیدمی مولانا محمد زعیم الدین حسامی نے اکیڈمی کی جانب سے ہفتہ واری درس قرآن کی محفل میں کیا ۔
حضرت سیدا فاطمتہ الزھراکی حیات مبارکہ اخلاقِ نبوی ﷺ کی بہترین مثال ہیں۔
فضائل سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ بیان کرتے ہوئے مولانا حسامی نے کہا کہ حضرت رسول اللہ ﷺ ارشاد فرماتے ہیکہ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل یہ چار عورتیں ہیں ۔ خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد(ﷺ) ، مریم بنت عمران،آسیہ بنت مزاحم ( جو فرعون کی بیوی تھیں)رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔اور فرمایا میری بیٹی فاطمہؓ جنتی عورتوں کی سردار ہیں، فاطمہ ؓ میرے جگر کا حصّہ ہے۔مولانا حسامی نے کہا کہ بی بی صاحبہؓ کا نام فاطمہ ہے ۔ تبول ، ز اکیہ ، ر اضیہ ، زہر ا ، طا ہر ہ ، مطہر ہ یہ سب آپ ؓ کے القا ب ہیں ۔مشہو ر روا یا ت کے بمو جب سید ہ فا طمہؓ بعثت نبو ی سے پا نچ سا ل پہلے جب کہ حضو راکرم ﷺ کی عمر شر یف ۳۵ بر س کی تھی اوربی بی خد یجۃ الکبریٰ کی عمر شر یف پچا س( ۵۰ ) برس کی تھی آپ ؓپیدا ہوئیں۔
ام المومنین حضرت سیدہ عا ئشہ صد یقہؓ فر ما تی ہیں کے بی بی فاطمہؓ چلنے پھرنے میں ، بات چیت میںعا دات و اطو ار میں مسکر ا نے میں با لکل حضو ر اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے مشا بہ تھیں۔ یعنی حضرت سیدا فاطمتہ الزھراکی حیات مبارکہ اخلاقِ نبوی ﷺ کی بہترین مثال ہیں۔مولانا حسامی نے کہا کہ حضرت سیدہ فاطمہ ؓ کی یکتا فضیلت یہ ہے کہ بی بی صاحبہ ؓ بیٹی ہیں سید المرسلین ؐ کی (یعنی رسول اللہ ﷺکی )، زوجہ ہیں سید الاولیاء کی( یعنی سیدنا علی ؓ کی ) اور والدہ ہیں سیدا شباب اہل جنت یعنی جنتی نوجوانوں کے سردارکی( یعنی امام حسن ؓ اور امام حسینؓ) اورآپؓ خود جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔
فضائل سیدنا ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہوئے مولانا حسامی نے کہا کہ حضرت سیدنا ابوبکر الصدیق ؓ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہیکہ آپ کی صحابیت نص قرآنی سے ثابت ہے (سورۃالتوبہ آیت ۴۰)۔لہذا آپؓ کی صحابیت کا انکارنص قرآنی کے انکار کی وجہہ سے کفر ہے۔اور یہ کہ تمام صحابہ کرام ؓ میںحضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی ایک ایسے صحابی رسولؐ ہیں جن کی چارنسلیں صحابیت سے مشرف ہوئی ہیں ۔چنانچہ آپ کے والد ماجد حضرت عثمانؓ جن کی کنیت ابوقحافہ تھی ، خود آپ ؓ( آپ کااصل نام عبد اللہ ہے، ابوبکر کنیت ہے اور صدیق لقب ہے ۔
اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ کا نام عبدالکعبہ تھا ، جب آپ نے اسلام قبول کیا تورسول اللہ ﷺ نے بدل کر عبد اللہ نام رکھا ) آپ کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر ؓ اور آپ کے پوتے عتیق بن عبدالرحمان بن ابوبکرؓ صحابی رسول ﷺ ہیں۔اور کہاکہ بحسن خوبی ان چاروں اصحاب رسول ﷺ کے نام عین (ع) ہی سے ہیں۔
آخر میں مولانا حسامی نے کہا کہ اہل بیت اطہار و صحابہ کرام ؓسے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور ان کی تعظیم ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ان کے خلاف ذرا برابر بھی دل میں دشمنی رکھنا دنیا و آخرت کی رسوائی ہے ۔



