بین ریاستی خبریں

قتل کےمجرم کو سیشن عدالت کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزامیں تخفیف

قتل

ممبئی: 29/ڈسمبر (ایجنسیز) ممبئی ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں قتل کےمجرم کو سیشن عدالت کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا میں تخفیف کرتے ہوے اسے آٹھ سال کی سزا میں محض اس لئے تبدیل کر دیا کیونکہ مجرم نے قتل کی واردات کے بعد خود ہی جا کر پو لیس کو مطلع کیا تھا اور خود سپردگی کی تھی۔

 
اطلاعات کے مطابق مہاراشٹرا کے پونہ شہر میں مقیم ایک شخص ، جس نے اپنے دوست کا صرف اس وجہ سے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تھا کیونکہ وہ کہ وہ اس کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا چاہتا تھا

استغاثہ کے مطابق28 /اکتوبر ، 2013 کو ، راجیش سندھے (نام تبدیل کر دیا گیا) ، نامی ایک تاجر ، اپنے ایک دوست کے ہمراہ شراب نوشی کر رہا تھا اور اسی وقت انکا ایک اورساتھی وہاں آپہونچا اور اس نے سندھی سے تمباکو طلب کیا ، تاہم ، اس نے اسے دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی گفتگو کرنے تیار نہیں ہے لہذا وہ اسکو تمباکو بھی نہیں دے سکتا ہے۔ 

اس بات سے دل برداشتہ ہوکر ملزم نے مقتول کو جبرا ایک گوشہ میں لیجاکر اسکا گلا گھونٹ دیا
اس واقعہ کے بعد ملزم نے خود جاکر مقامی پولیس کو اطلاع دی اور پھر خودسپردگی کی پونہ کی نچلی سیشن عدالت نے شواہد اور ثبوت کی بنیاد پر مجرم کو تاحیات جیل میں رکھے جانے کی سزا تجویز کی جسکے خلاف مجرم نے ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور سزا کومعاف کرنے و اس میں تخفیف کئے جانے کی درخواست کی تھی۔

جسٹس سادھنا جادھو اور نظام الدین جمعدار پر مشتمل بنچ نے مجرم کی اہیل کو منظور کرتے ہوئے اپنے حکم میں کہا ہیکہ یہ واقعہ لمحہ بہ لمحہ پیش آیا تھا اور مجرم کا مقتول کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اور نہ ہی مجرم کوئ بیشہ وارانہ مجرم ہے

عدالت نے کہا کہ یہ ایک غیرارادتاً قتل کا معاملہ ہے لہذاسیشن عدالت نے مجرم کو جو سزا تجویز کی تھی وہ اسکا مستحق نہیں تھا ۔نیز قتل کی اطلاع بھی خود مجرم نے پولیس کو دیکر خود سپردگی کی تھی اس لئے اسکی سزا میں تخفیف کرتے ہوے اسے محض آٹھ سال تک ہی جیل میں رکھے جانے کا فیصلہ صادر کیا جاتاہے۔

مزید خبریں

متعلقہ خبریں

Back to top button