لکھنؤ:( ایجنسی) بہوجن سماج پارٹی حکومت میں کابینہ کے وزیر نسیم الدین صدیقی اور رام اچل راج بھر کو جیل میں رہنا پڑے گا۔ آج ایم پی / ایم ایل اے عدالت میں ضمانت کی درخواست کی سماعت کے بعد جج نے فیصلہ 22 جنوری تک کیلئے محفوظ کرلیا ہے۔ واضح ہوکہ منگل کو جائیداد قرق کرنے کے حکم سے ایک دن قبل مفرورقرار دیئے جانے کے بعد دونوں سابق وزیر نے عدالت میں خود سپردگی کردی ،
جہاں سے عدالت نے اسے 14 دن کی عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا۔یہ سارا معاملہ خواتین اور بی جے پی رہنما دایا شنکر سنگھ کے کنبے کی ان کی بیٹی کے بارے میں غیر مہذ ب تبصرے سے متعلق ہے۔خیال رہے کہ 22 جولائی 2016 کو مقدمے میں نامزد ایف آئی آر تتری سنگھ کی والدہ نے تھانہ حضرت گنج میں درج کرایا تھا۔ اپنے ایف آئی آر میں انہوں نے بی ایس پی کے قومی صدر مایاوتی کے ساتھ نسیم الدین ، رام اچل راج بھر اور میوہ لال کو بھی نامزد کیا۔ جس کے مطابق 20 جولائی 2016 کو بی ایس پی صدر مایاوتی نے راجیہ سبھا میں ان کی ،اس کی بیٹی ، اس کی بہو اور پوتی اور کنبہ کی تمام خواتین کو دشنام طرازی کی تھی ۔
دوسرے دن بی ایس پی کے کارکنوں نے نسیم الدین صدیقی ، رام اچل راج بھر اور میوہ لال کی سربراہی میں حضرت گنج میں واقع امبیڈکر مجسمے پر ان کے بیٹے دیا شنکر سنگھ کوگالیاں دیں اور بے ہودہ تبصرے کرتے ہوئے احتجا ج کیا ۔اور مبینہ طور پر اشتعال انگیز طبقاتی اور نسلی سلوک کے بعد ہجوم کو تشدد پر اکسایا۔ دیا شنکر کی 12 سالہ بیٹی کے لئے مبینہ طور پر ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ، جو عصمت دری کے زمرے میں آتے ہیں ۔اس معاملے میں عدالت نے پیر کے روز انسپکٹر تھانہ حضرت گنج کو قرق کی کاروائی کا حکم دیا ۔
اس سلسلے میں پیر کے روز خصوصی جج پون کمار رائے نے حکم جاری کیا۔ ان کے علاوہ اس وقت کے بی ایس پی کے قومی سکریٹری میوہ لال گوتم ، اترہ سنگھ راؤ اور نوشاد علی بھی اس معاملہ میں ملزم ہیں۔ 12 جنوری ، 2018 کوان تمام ملزمان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 506 ، 509 ، 153 اے ، 34 ، 149 اور پاکسو ایکٹ کی دفعہ 11 (1) کے تحت چارج شیٹ دائر کی گئی تھی۔



