نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)ملک کی عدالت عظمیٰ نے رلیشن شب میں تعلقات کو عصمت دری کے زمرے میں رکھنے سے انکار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگرلیوان رلیشن شپ میں میں اتفاق سے جنسی تعلقات بنتے ہیں اور مرد اس خاتون سے شادی کا وعدہ پورا نہیں کرتا ہے تو اسے عصمت دری نہیں کہا جاسکتا۔ یہ معاملہ کال سینٹر کے دو ملازمین سے متعلق ہے جو پانچ سال تک ’لیوان رلیشن شپ ‘ ( آپسی رضامندی سےجنسی تعلق) تھے، بعد میں اس لڑکے نے دوسری خاتون سے شادی کرلی،
جس کے بعد لڑکی نے اس سے شادی کا جھوٹا وعدے کرکے جنسی تعلقات بنانے کا الزام عائدکیا۔شادی کا جھوٹا وعدہ غلط ہے۔ کسی خاتون سے شادی کا وعدہ نہیں کرکے علیحدگی اختیار نہیںکرنی چاہئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لیوان رلیشن شپ میں بنے جنسی تعلقات کو عصمت دری کا درجہ دیا جائے۔
مرد کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ وبھا دتہ مکھیجیا نے کہا کہ اگر رضامندی سے تعلقات بنے ہیں تو اسے عصمت دری نہیں کہاجائے گا۔
شکایت کنندہ کے وکیل آدتیہ واسیتھا نے بتایا کہ ملزم شخص نے دنیا کو دکھایا کہ وہ ایک شوہر اور بیوی کی طرح رہتا ہے اور دونوں کی شادی ایک مندر میں ہوئی ہے لیکن بعد میں اس نے خاتون کو تکلیف پہنچانے اور اس سے پیسہ لینے کے بعد یہ وعدہ توڑدیا۔
جب مکھیجیا نے کہا کہ شکایت کنندہ خاتون نے عادتاایسا کام کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ اس نے ماضی میں بھی دو دیگر مردوں کے ساتھ ایسا کیاہے توبنچ نے کہا کہ قانون کے تحت عصمت دری متاثرہ کیلئے عادتا کالفظ استعمال کرناسہی نہیں ہے۔مکھیجیہ نے کہا کہ وہ شکایت کنندہ کے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اس معاملے کی حساسیت کو سمجھتی ہیں۔
سپریم کورٹ نے اس شخص کی گرفتاری پر 8 ہفتوں کے لئے روک لگادی ہے۔ اس سے یہ معلوم کرنے کے لئے کہا گیا ہے کہ آیا استغاثہ مقدمے کی سماعت کے دوران عصمت دری کرنے والے کو ثابت کرنے کے لئے ثبوت پیش کرنے میں کامیاب رہا ہے۔



