
ماؤ نوازوں کی طرف سے حکومت کیلئے چیلنج: یرغمال بنائے گئے کوبرا کمانڈو راکیشور سنگھ کی رہائی، اور اس میں پوشیدہ اہم ’پیغامات‘
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن)ماؤنوازوں نے جمعرات کے روز سی آر پی ایف کے یرغمال بنائے گئے اہلکار راکیشور سنگھ کو رہا کردیا ہے ، انہیں چھتیس گڑھ کے بیجا پور میں 3 اپریل کو تصادم کے بعد اسے یرغمال بنایا گیا تھا۔ اس دن نکسلی حملے میں 23 فوجی شہید ہوئے تھے۔ حملے کے بعد سے راکیشور سنگھ لاپتہ تھے۔ 7 اپریل کو نکسلیوں نے ایک تصویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے قبضے میں ہیں اور محفوظ ہیں۔اس کے بعد مذاکرات کی کوششوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔
افسران سرچ آپریشن کے بارے میں بات کرتے رہے۔اس دوران راکیشور کو پچھلے دروازے سے آزاد کرنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا تھا۔ بستر رینج کے آئی جی سندرراج نے بھی بتایا ہے کہ راکیشور سنگھ کی بازیابی کے لئے سماجی تنظیموں ، عوامی نمائندگان اور صحافیوں کی مدد لی گئی۔ انہوں نے پد م شری دھرم پال سینی ، گونڈوانا رابطہ کمیٹی کے چیئرمین تیلم بوریا ، صحافی گنیش مشرا اور مکیش چندرکر ، راجہ راٹھور اور شنکر کا نام لیا۔
بالآخر 5 دن بعد راکیشور سنگھ بازیاب ہوکر واپس آئے۔راکیشور سنگھ کی رہائی سے زیادہ چونکانے والا ان کی رہائی کا طریقۂ کار ہے۔نکسلیوں نے را کیشور سنگھ کی رہائی کے لئے اسی جگہ کا انتخاب کیا،جہاں انہوں نے راکیشور سنگھ اور دیگر سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا۔
یہاں سیکڑوں لوگوں کو جمع کیا گیا ، اس عوامی پنچایت میں راکیشور سنگھ کے ہاتھ پیر باندھ کر پیش کیا گیا۔ میڈیا والوں کو اس کے کوریج کے لئے بھی بلایا گیا تھا۔بازیابی کی ویڈیوز بنائی گئیں اور راکیشور سنگھ کو ثالثوں کے ساتھ بھیجا گیا ۔
اس پوری سرگرمی میں نکسلی اگلی نشست پر براجمان ہوکر پورے معاملہ کو نگرانی کرتے رہے ۔ انہوں نے اپنے طریقۂ کارسے یہ واضح کردیا کہ حکومت کے دعوؤں کے باوجود سب کچھ ان کے ہاتھ میں ہے۔ جہاں بڑے آپریشن کا دعویٰ کیا جارہا تھا ،وہیں نکسلیوں نے راکیشور سنگھ کو رہا کرکے یہ پیغام دیا کہ اس علاقے پران کی ہی حکمرانی ہے۔



