قومی خبریں

مختار انصاری کو یوپی بھیجنے پر سماعت مکمل ، سپریم کورٹ نے محفوظ رکھافیصلہ

 

پنجاب
مختار انصاری

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)سپریم کورٹ نے باہوبلی لیڈر مختار انصاری کو پنجاب سے یوپی واپس بھیجنے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ یوپی نے شکایت کی ہے کہ 2 سال قبل مختار جسے ایک پروڈکشن کے لئے پنجاب لایا گیا تھا، حکومت پنجاب ان کو واپس نہیں بھیج رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ریاست میں سنگین جرائم کے زیر التوا مقدمات متاثر ہورہے ہیں۔

وہیں مختار نے دعویٰ کیا ہے کہ یوپی میں ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے، اس لئے انہیں وہاں نہ بھیجا جائے۔آج پنجاب کے وکیل دشینت دیو نے جسٹس اشوک بھوشن اور آر سبھاش ریڈی کی بنچ کے سامنے جرح کی۔ انہوں نے اس الزام کی تردید کی کہ مختار کو غلط میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر نہیں بھیجا جارہا ہے۔ دیو نے کہا کہ حکومت پنجاب کو کسی مجرم سے ہمدردی نہیں ہے،

مختار انصاری کا تعلق پنجاب میں عدالتی فیصلے سے ہے۔ یہ یوپی کا قصور ہے کہ وہ وہاں کی جیل میں بھی فون کرکے لوگوں کو دھمکارہا تھا۔ تبھی پنجاب میں ایف آئی آر درج ہوئی۔حکومت پنجاب کے وکیل نے بھی یوپی کے مطالبے کو آئینی شقوں کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی مانگ کی۔

انہوں نے کہا کہ یوپی میں مختار کے خلاف تمام مقدمات 15-20 سال پرانے ہیں۔ ان کے ساتھ ابھی تک کوئی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟۔ موجودہ حکومت بھی ایک طویل عرصے سے برسر اقتدار ہے۔ اس نے بھی عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا، اب الزام پنجاب پر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button