بین ریاستی خبریں

مدھیہ پردیش: اسپتال میں آکسیجن بند ہونے سے چار کورونا مریضوں کی موت کا الزام ضلعی انتظامیہ نے کیا مسترد

بھوپال:(اردودنیا.اِن)ملک میں کورونا وائرس کے معاملات میں اضافے کے دوران آکسیجن کے لئے مریضوں اور ان کے اہل خانہ در در بھٹکنے اطلاعات ہیں۔ کچھ جگہوں پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مدھیہ پردیش کے بڑوانی کے ضلعی اسپتال میں چار کورونا مریضوں کی موت کی خبر ہے۔ جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین نے الزام لگایا کہ بڑوانی کے ضلعی اسپتال میں چار کورونا مریضوں کی موت ہوگئی۔

اسی دوران ضلعی انتظامیہ نے آکسیجن کی کمی کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص کی موت ہوئی ہے اوروہ بھی دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے۔این ڈی ٹی وی کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آکسیجن کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کے لواحقین میں افراتفری پیدا ہورہی ہے ۔ مریضوں کے لواحقین کا الزام ہے کہ آکسیجن کا بہاؤ کم از کم آدھے گھنٹے کے لئے روکا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو اافسران اموات کی تردید کر رہے ہیں وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

مریض کی ایک خاتون رشتہ دار نے کہا کہ میرے بچے کی آکسیجن کی سطح 94 تھی۔ صبح ہوتے ہی اچانک بہاؤ رک گیا ، جس سے خوف و ہراس پھیل گیا۔ میرا بچہ تکلیف میں مبتلا تھا۔ ہماری مدد کرنے کے لئے نہ تو کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا۔ ایک اور رشتہ دار ڈاکٹر پرتیک سونی نے بھی اسی طرح کے الزامات عائد کیے انہوں کہا ہے کہ آکسیجن کا بہاؤ رکنے کی وجہ سے انہوں بیٹے کو کھودیا ڈاکٹر سونی نے کہا کہ کم از کم چار افراد کی موت ہوئی ہے جب کہ کلکٹر صرف ایک مریض کی موت کا دعوی کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔

بڑوانی کے ایڈیشنل کلکٹر لوکیش کمار جانگیڑ نے اعتراف کیا کہ انتظامیہ کو ہفتہ کے روز اسپتال کے ٹراما سنٹر سے شکایت موصول ہوئی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ مرکزی پائپ لائن میں آکسیجن کا بہاؤ ناکافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آکسیجن میکینک نے مسئلہ کو ٹھیک کرکے بہاؤ کو بحال کردیا تھا۔ آکسیجن کا بہائو کم ہونے کی وجہ سے کوئی موت نہیں ہوئی ہے۔ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ایک مریض کی موت ہوئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button