بین ریاستی خبریں

مدھیہ پردیش بی جے پی کے دفتر میں مبینہ جنسی زیادتی

بھوپال: (اردودنیا.اِن) مدھیہ پردیش بی جے پی کے دفتر میں مبینہ طور پر جنسی استحصال کے معاملے سے ریاست کی سیاست گرم ہوگئی ہے۔ تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی بی جے پی کے ریاستی دفتر کے وزیر راگھویندر شرما نے دعوی کیا تھا کہ 200 مربع فٹ کے کمرے میں ایک لائبریری ہے ، جس میں 10-12 افراد بیٹھتے ہیں، واقعہ صبح گیارہ بجے ممکن الوقوع نہیں ، اس کے باوجود تحقیقات کی جارہی ہیں،

سی سی ٹی وی پورے دفتر میں نصب ہے ، لائبریری میں کیمرہ بھی ہے۔ اگر ایسا ہی کچھ ہوتا تو تحقیقات میں حقیقت سامنے آ جاتی۔ شرما کے اس بیان کے بعد کانگریس حملہ آور ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ ، کا نعرہ منافقانہ ہے ، سچ سب کے سامنے آگیا ہے،متاثرہ کو انصاف دیں۔ اسی دوران متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتی۔

اس نے پارٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کردیا ہے ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے ریاستی جنرل وزیر بھگوان داس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ متأثرہ نے انہیں اس واقعے کے بارے میں معلومات دی ہیں۔

کانگریس کے ریاستی ترجمان اجے یادو نے کہا کہ بی جے پی کے دفتر میں جس طرح سے دو لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اس نے پارٹی کے کردار اور چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ یہ پارٹی خواتین کا احترام نہیں کرسکتی ہے ، کانگریس واقعے کی مذمت کرتی ہے اور ملزمین کے لئے سزا کا مطالبہ کرتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button